Shair

شعر

ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہوجائے
چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہوجائے

(بشیر بدر)

گر فروش گلیم آپ کے گھر میں نہیں مشفق
تو آنکھیں ہی پاؤں کے تلے اوس کے بچھا دو

(نصیر)

غرور وناز سے آنکھیں نہ کھولیں اس جفا جونے
ملا پاؤں تلے جب تک نہ چشم صد غزالاں کو

(میر)

کچھ مجھے جرأت ہوئی‘ کچھ اُن کی آنکھیں جھک گئیں
ہوتے ہوتے یونہی اظہار تمنا ہوگیا

(حفیظ ‌ہوشیار ‌پوری)

گریے کا فلسفہ ہے عیاں اہل ہوش پر
رونے جب مزہ ہے کہ آنکھیں ہوں جوش پر

(یکتا امروہوی)

خانۂ تاریک تن میں تانہ گھبرائے یہ روح
دونوں آنکھیں دیں بنی آدم کو دو روشن چراغ

(ریاض البحر)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Poetry

Pinterest Share