Shair

شعر

بچھی تھیں ہر طرف آنکھیں ہی آنکھیں
کوئی آنسو گرا تھا ، یاد ہوگا

(بشیر بدر)

آنکھیں بھی حسیں تھوتھنی کی وضع بھی پیاری
اہو قدمی پر ہے فدا باد بہاری

(اطہر)

رشک مہ بن ہے یہ اندھیر کہ مجھ پر تارے
دمبدم آنکھیں نکالے ہیں شب تار سے مل

(نصیر)

بیٹھے سے بیگار بھل آج اس کے گھر چل دیکھوں میں
اور نہ ہو کچھ حاصل رخ پر آنکھیں تو پڑجائیں گی

(شوق قدوائی)

دیکھیں ہیں راہ کس کی یارب کہ اختروں کی
رہتی ہیں باز آنکھیں چندیں ہزار ہر شب

(میر)

دل بھی کیسی شے ہے دیکھو پھر خالی کا خالی
گرچہ اس میں ڈآلے میں نے آنکھیں بھر بھر خواب

(سعد ‌اللہ ‌شاہ)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Poetry

Pinterest Share