Shair

شعر

لڑ گئیں آنکھیں اٹھائی دل نے چوٹ
یہ تماشائی عبث گھائل ہوا

(میر)

وہ آنکھیں آج ستارے تراشتی دیکھیں
جنہوں نے رنگِ تبسّم دیا زمانے کو

(بیگم ‌سحاب ‌قزلباش)

پلا ساقیا بادہ لعل گوں
کہ ہو جائیں سرخ آنکھیں مانند خوں

(میر)

وہ چہرہ کہ برق طور آنکھیں جھپکائے
وہ ماتھا چندر لوک جس سے شرمائے

(فراق)

مشکیزہ لیے پانی جو بھرنے کو تھے آئے
دریا کے حبابوں سے رہے آنکھیں لگائے

(شمیم)

وہ دکھنے ہمیں ٹک بیماری میں نہ آیا
سوبار آنکھیں کھولیں بالیں سے سراٹھایا

(میر)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Poetry

Pinterest Share