Shair

شعر

کھڑی ہیں موقف فریاد پر آنکھوں میں آنسو ہیں
نظر اُسکے کرم پر دل میں حسرت ہائے پنہانی

(عزیز لکھنؤی)

آنکھ میں بھر لائے آنسو گو کہ صابر تھے حسین
کہا کے جب برچھی کا پھل کڑیل جواں مارا گیا

(سجاد راے پوری)

کیا قہر ہے کب تک کوئی رہ جاے آنسو پی کے یوں
ہنس ہنس کے میرے آگے تم دست عدو سے جام لو

(مومن)

آنسو گرا جو خاک میں تقدیر نے کہا
ملے ہیں دیکھ خاک میں یوں آبروپسند

(گلزار داغ)

دمِ رخصت صبا ان نرگسی آنکھوں میں آنسو تھے
نمود صبح کے آنچل میں دیکھی کہکشاں میں نے

(نامعلوم)

تھی نگاہ حسن میں کتنی مرے دل کی بساط
ایک آنسو تھا جو گر کر جذب دامن ہو گیا

(اعجاز نوح)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Poetry

Pinterest Share