Shair

شعر

دل ہے داغ جگر ہے ٹکڑے آنسو سارے خون ہوئے
لوہو پانی ایک کرے یہ عشق لالہ عذاراں ہے

(میر تقی میر)

صبا سے کرتے ہیں غربت نصیب ذکرِ وطن
تو چشم صبح میں آنسو ابھرنے لگتے ہیں

(فیض ‌احمد ‌فیض)

شب گریہ کہ وابستہ مری دل شکنی تھی
جو بوند تھی آنسو کی سو ہیرے کی کنی تھی

(قائم)

شام کے پیر کی سرمئی شاخ پر پتیوں میں چھپا کوئی جگنو بھی ہے
ساحلوں پرپڑی سیپیوں میں کہیں جھلملاتا ہوا ایک آنسو بھی ہے

(بشیر بدر)

بس یہی سوچ کے پی جاتا ہوں آنسو اے دوست
جانے کس کس کی نظر دامنِ تر تک پہنچے!

(نامعلوم)

اٹھانابار منت شاق تھا پیراہن تن کا
ہوئے خشک آنکھ میں آنسو لیا احساں نہ دامن کا

(نسیم دہلوی)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Poetry

Pinterest Share