Shair

شعر

سنتے ہی اس کے ، شمع کے آنسو ہوئے رواں
جب بات چل پڑی ،مرے دل کی گداز کی

(شہیدی)

سوزش بہت ہو دل میں تو آنسو کو پی نہ جا
کرتا ہے کام آگ کا ایسی جلن میں آب

(میر)

شمول خون دل سے ہو گیا گل رنگ یا شاید
تمہارے رنگ عارض کا اثر ہے میرے آنسو میں

(نقوش مانی)

مژہ پر چڑھ آنسو کیا نٹھ کا سانگ
بدوں گا نہ میں اس کی یہ بھی کلا

(اظفری)

ہوں وہ غمدیدہ گرا نظروں سے اک دم میں وزیر
کی جگہ بھی جو کسی آنکھ میں آنسو کی طرح

(وزیر)

مچا تھا شہر میں کُہرام کل سورج کے مرنے پر
تیری آنکھوں سے لیکن ایک آنسو بھی نہیں نکلا

(اقبال ‌ساجد)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Poetry

Pinterest Share