Shair

شعر

یہ کیوں ہے ناامیدی درگاہِ کبریا سے
جو کچھ کہ آرزو ہے ایسا ہی پائیے گا

(نسیم دہلوی)

دیدار عام کیجیئے پردہ اوٹھائیے
تا چند بندہ ہائے خدا آرزو کریں

(آتش)

دریا سے دور رہ کر قطرے کی زندگی کیا
ہوجاؤں جذب تجھ میں یہ میری آرزو ہے

(قیصر ‌مشہدی)

ہماری آرزو کی طاقتیں اب دیکھنا کوئی
نظر کے سامنے سارا جمالستان عریاں ہے

(سہا)

تم تو صرف اک دید کی حسرت پہ برہم ہوگئے
کم سے کم پوری تو سنتے داستانِ آرزو

(استاد ‌قمر ‌جلالوی)

سراپا آرزو ہونے نے بندہ کر دیا ہم کو
وگرنہ ہم خدا تھے گر دل بے مدعا ہوتے

(میر)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 21

Poetry

Pinterest Share