Shair

شعر

مزا تھا ہم کو جو بلبل سے دوبدو کرتے
کہ گل تمہاری بہاروں میں آرزو کرتے

(ذوق)

دمِ مرگ دشوار دی جان اُن نے
مگر میر کو آرزو تھی کِسو کی

(میر)

سراپا آرزو ہونے نے بندہ کر دیا ہم کو
وگرنہ ہم خدا تھے گر دل بے مدعا ہوتے

(میر)

اُٹھے ہیں اس کی بزم سے امجد ہزار بار
ہم ترکِ آرزو کا ارادہ کیے ہُوئے

(امجد اسلام امجد)

آرزو دھرتا ہوں اج اک بات کر مُنج سات توں
منج لکھیں الحق تری یگ بات ہے جیوں سوں کتاب

(عبداللہ قطب شاہ)

دیدار عام کیجیے پردہ اٹھائیے
تاچند بندہ ہاے خدا آرزو کریں

(آتش)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 21

Poetry

Pinterest Share