Shair

شعر

ہیلن
(مارلو کے اشعار کا آزاد ترجمہ)
’’یہی وہ چہرہ تھا
جس کی خاطر ہزار ہا بادبان کُھلے تھے
اسی کی خاطر
منار ایلم کے راکھ بن کر بھسم ہوئے تھے
اے میری جانِ بہار ہیلن!
طلسمِ بوسہ سے میری ہستی امر بنادے
(یہ اس کے ہونٹوں کے لمسِ شیریں میں کیا کشش ہے کہ روح تحلیل ہورہی ہے)
اِک اور بوسہ
کہ میری رُوحِ پریدہ میرے بدن میں پلٹے
یہ آرزو ہے کہ ان لبوں کے بہشت سائے میں عُمر کاٹوں
کہ ساری دُنیا کے نقش باطل
بس ایک نقشِ ثبات ہیلن
سوائے ہیلن کے سب فنا ہے
کہ ہے دلیلِ حیات ہیلن!
اے میری ہیلن!
تری طلب میں ہر ایک ذلّت مجھے گوارا
میں اپنا گھر بارِ اپنا نام و نمود تجھ پر نثار کردوں
جو حکم دے وہ سوانگ بھرلوں
ہر ایک دیوار ڈھا کے تیرا وصال جیتوں
کہ ساری دنیا کے رنج و غم کے بدل پہ بھاری ہے
تیرے ہونٹوں کا ایک بوسہ
سُبک مثالِ ہوائے شامِ وصال‘ ہیلن!
ستارے پوشاک ہیں تری
اور تیرا چہرہ‘ تمام سیّارگاں کے چہروں سے بڑھ کے روشن
شعاعِ حسنِ اَزل سے خُوشتر ہیں تیرے جلوے
تُمہیں ہو میری وفا کی منزل…!
تُمہیں ہو کشتی‘ تمہیں ہو ساحل‘‘

(امجد ‌اسلام ‌امجد)

داغ دل چیر کے اوس بت کو دِکھانا ہی نہ تھا
آرزو نِکلےتو غم کی ہم داستاں سنائیں

(گلزارِ داغ)

دل کا کیا تھا حال نظم ، شعر کہے تھے درد خیز
داد تو دیتے اے شرف ہوتے جو خانِ آرزو

(شرف)

کسی بہار سے تسکین آرزو نہ ہوئی
جو پھول صبح کھلے‘ شام کو پرائے لگے

(سلیم ‌احمد)

غمِ حیات نے آوارہ کردیا‘ ورنہ!
تھی آرزو کہ تیرے در پہ صبح و شام کریں

(مجروح)

یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے
ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے

(آتش)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 21

Poetry

Pinterest Share