Word of the dayآج کا لفظ

Martello

کنج انزدا

MEANS: ملک کی حفاظت کے لئے ساحلی قلعہ بندی

معنی: گوشہِ تنہائی

Listen to Urdu Pronunciationالفاظ کے تلفظ سنئیے

Couplet of the day

آج کا شعر

Click on the below image to open up the complete image gallery. مکمل گیلری کو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی تصویر پر کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

قابلؔ اجمیری

Description

تفصیل

مقبول اردو شاعر ، پاکستانی ۔اصل نام : عبد الرحیم ، تخلص : قابلؔ اجمیری ۔۲۷؍اگست ۱۹۳۱ء کو اجمیر ،راجستھان میں پیدا ہوئے ۔والد: عبد الکریم ۔ والدہ : گلاب بیگم ۔قابل اجمیری نے ابتدائی تعلیم اجمیر ہی میں حاصل کی ۔سات سال کے تھے کہ والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا اور کچھ عرصہ بعد والدہ بھی فوت ہوگئیں ۔اس کے بعد قابلؔ کی پرورش اُن کی بڑی بہن فاطمہ نے کی لیکن کچھ عرصے بعد اُن کی بڑی بہن فاطمہ بھی خالقِ حقیقی سے جاملیں ۔اس طرح قابل بے یار و مددگار رہ گئے۔ اسی بے سرو سامانی کی حالت میں قابلؔ جنوری ۱۹۴۸ء میں اپنے بڑے بھائی شریف الکریم کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور حیدر آباد(سندھ) میں مقیم ہوئے۔انتقال تک وہیں رہے۔چودہ سال کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا اور بیس سال کی عمر میں مشاعروں میں پڑھنا شروع کیا۔جلد ہی مقبول اردو شاعروں میں شمار ہونے لگے۔اکیس سال کی عمرمیں قابلؔ کا شمار ’’سینئر شعرأ‘‘ میں کیا جانے لگا۔اس وقت اردو شاعری پر اختر انصاری اکبر آبادی ، محسن بھوپالی ، حمایت علی شاعر ؔ اور دیگر کا راج تھا،ایسے میں اپنی جداگانہ شناخت بنانا اور اسے برقرار رکھنا کسی نوآموز شاعر کے لیے انتہائی کٹھن کام تھا لیکن قابل ؔ اجمیری نے اس ناممکن کو ممکن کردکھایا۔وہ روزنامہ ’’جاوید ‘‘ حیدر آباد میں روزانہ ایک قطعہ بھی لکھنے لگے جس سے اُن کی شاعرانہ مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا ۔بعد ازاں وہ روزنامہ ’’آفتاب‘‘ (حیدر آباد) میں بھی لکھنے لگے۔ قابلؔ اجمیری نظم اور غزل کے ماہر ترین شاعر ہیں۔’’دیدۂ بیدار‘‘ آپ کی شاعری کا پہلا مجموعہ کلام ہے جس میں آپ کی فکری پختگی عروج پر ہے ۔اس مجموعہ کی طباعت کے بعد قابلؔ کا شُمار رومانی شعراء میں بھی کیا جانے لگا۔اسی دوران قابلؔ علیل رہنے لگے اور مختلف اسپتالوں میں داخل رہے۔معالجین نے آپ کو ٹی۔بی تشخیص کی ۔۱۹۶۰ء میں آپ ’’کوئٹہ سینیٹوریم ‘‘ میں داخل کیے گئے وہاں اُن کی ملاقات نرگس سوسن نامی غیر مسلم خاتون سے ہوئی جو وہاں نرس تھیں ۔قابل اُن کو دل دے بیٹھے اور انھیں حلقۂ اسلام میں داخل کرکے اُن سے شادی کرلی۔ان سے اُن کا ایک بیٹا ظفر اقبال پیدا ہوا۔طویل علالت کے باعث ۳؍ اکتوبر ۱۹۶۲ء کو قابلؔ اجمیری انتقال کرگئے۔ کئی غزلیں اُن کی پہچان ثابت ہوئیں ۔مثلاً : وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نھیں ہوتا رات کا انتظار کون کرے آج کل دن میں کیا نھیں ہوتا کلام : حیرتوں کے سلسلے سوزِ نہاں تک آگئے ہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آگئے نامرادی اپنی قسمت ، گمراہی اپنا نصیب کارواں کی خیر ہو ہم کارواں تک آگئے اُن کی پلکوں پر ستارے ،اپنے ہونٹوں پر ہنسی قصہ غم کھاتے کھاتے ہم کہاں تک آگئے آج قابلؔ میکدے میں انقلاب آنے کو ہے اہلِ دل اندیشۂ سود و زیاں تک آگئے

Shair Collection

اشعار کا مجموعہ

Compilation of top 20 hand-picked Urdu shayari on the most sought-after subjects and poets

انتہائی مطلوب مضامین اور شاعروں پر مشتمل 20 ہاتھ سے منتخب اردو شاعری کی تالیف

SEE FULL COLLECTIONمکمل کلیکشن دیکھیں
Pinterest Share