Word of the dayآج کا لفظ

Martello

کنج انزدا

MEANS: ملک کی حفاظت کے لئے ساحلی قلعہ بندی

معنی: گوشہِ تنہائی

Listen to Urdu Pronunciationالفاظ کے تلفظ سنئیے

Couplet of the day

آج کا شعر

Click on the below image to open up the complete image gallery. مکمل گیلری کو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی تصویر پر کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

جون ؔ ایلیا

Description

تفصیل

ہم نے جونؔ سے باتیں کی ہیں ہم نے جونؔ کو دیکھا ہے جون ؔ ایلیا ، مقبول ترین پاکستانی اردو شاعر ۔دنیا بھر میں اپنے منفرد لب و لہجے کی بنا پر پہچانے جاتے ہیں ۔14دسمبر 1931ء کو امروہہ ، اُتر پردیش (بھارت ) میں پیدا ہوئے اور 8 نومبر 2002ء کو کراچی میں طویل علالت کے بعد انتقال کیا ۔اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔والد : شفیق حسن ، ابتدائی تعلیم و تربیت گھر پر ہوئی اس کے بعد امروہہ کے مدرسے’’سید المدارس‘‘ میں داخل کیے گئے جہاں آپ نے عربی ، فارسی ،انگریزی ،عبرانی اور اردو وغیرہ کی تعلیم حاصل کی ۔آٹھ سال کی عمر میں جان ایلیا شاعری اور نجوم میں دلچسپی لینے لگے اور آٹھ سال کی عمر میں پہلا شعر کہا ۔ جون ایلیا ۱۹۵۷ء میں ہجرت کرکے کراچی آگئے اور مستقل قیام کرلیا۔ جون ایلیا کو قدرت نے شاعری کی خداداد صلاحیت سے نوازا تھا ۔آپ نے اپنی شاعری سے معروف ترین ادبی حلقوں میں دھوم مچادی ۔وہ نت نئے موضوعات پر بڑی مہارت کے ساتھ شاعری کرتے رہے۔ عمر گزرے گی امتحان میں کیا داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا بولتے کیوں نھیں میرے حق میں آبلے پڑ گئے زبان میں کیا یہ مجھے چین کیوں نھیں ملتا ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا اسی طرح سے کہتے ہیں : کوئی حالت نھیں یہ حالت ہے یہ تو آشوب ناک صورت ہے اپنے اندر سے باہر آجاؤ گھر میں سامان کی ضرورت ہے آج کا دن بھی خیر سے گزرا سر سے پا تک بدن سلامت ہے ۱۹۹۱ء میں جون ایلیا کا پہلا شعری مجموعہ ’’شاید‘‘ منظرِ عام پر آیا۔اُس وقت جونؔ کی عمر ساٹھ سال تھی اور شاید یہ مجموعہ بھی کبھی شایع نہ ہوتا اگر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی زور نہ دیتے کیونکہ جون ایلیا مجموعہ کلام شایع کروانے کے حق میں نھیں تھے ۔اس مجموعے میں جون ؔ نے اپنی بصیرت کے اعلیٰ جوہر دکھائے ہیں ۔دوسرا مجموعہ ’’یعنی‘‘ ۲۰۰۳ ء میں منظرِ عام پر آیا ۔اس کے بعد ’’گمنام ‘‘ ( ۲۰۰۴ء) ، ’’لیکن ‘‘ (۲۰۰۶ء) اور ’’ گویا ‘‘ (۲۰۰۸ء) منظر عام پر آئے ۔آخری مجموعے جونؔ ایلیا کی وفات کے بعد اُن کے دوستوں مثلاً خالد انصاری وغیرہ نے مرتب کیے لیکن ’’ شاید‘‘ جونؔ کی زندگی ہی میں مقبولیت کی انتہا پر رہا۔ معروف نقاد ڈاکٹر محمد علی صدیقی نے جونؔ ایلیا کے بارے میں لکھا ہے :’’جون ؔ بیسویں صدی عیسوی کے دوسرے نصف حصے کے تین عظیم ترین اردو شعراء میں سے سب سے زیادہ ممتاز غزل گو شاعر ہیں !‘‘ جونؔ نے’’ اسماعیلی تعلیمی بورڈ‘‘ کے تحت بھی خاصا تحقیقی و تاریخی کام کیا۔ فلسفے کی کتابیں بھی لکھیں ۔مسلم تاریخ پر بھی کئی کتابیں تحریر کیں ۔’’حسن بن صباح‘‘ پر بھی ایک جامع تحقیق مرتب کی۔جون ایلیا نے فلسفہ ، منطق ، اسلامی تاریخ ، اسلامی صوفی روایات ،اسلامی سائنس ، مغربی ادب اور کربلا کے موضوعات پر سیر حاصل تصانیف تحریر کیں۔ جونؔ ایلیا کے بڑے بھائی کا نام رئیس امروہوی(معروف اردو شاعر) اور زوجہ معروف شاعرہ اور افسانہ نگار زاہدہ حنا ہیں۔ مجموعہ ہاے کلام : شاید (۱۹۹۱ء) یعنی (۲۰۰۳ء) گُم نام (۲۰۰۴ء) لیکن (۲۰۰۶ء) گویا (۲۰۰۸ء) کلام: اب جنوں کب کسی کے بس میں ہے اس کی خوشبو نفس نفس میں ہے حال اُس صید کا سنائیے کیا جس کا صیّا د خود قفس میں ہے کیا ہے گر زندگی کا بس نہ چلا زندگی کب کسی کے بس میں ہے غیر سے تُو رہو ذرا ہُشیار وہ تیرے جسم کی ہوس میں ہے پا شکستہ پڑا ہوا ہوں مگر دل کسی نغمۂ جرس میں ہے جونؔ ہم سب کی دسترس میں ہیں وہ بھلا کس کی دسترس میں ہے

Shair Collection

اشعار کا مجموعہ

Compilation of top 20 hand-picked Urdu shayari on the most sought-after subjects and poets

انتہائی مطلوب مضامین اور شاعروں پر مشتمل 20 ہاتھ سے منتخب اردو شاعری کی تالیف

SEE FULL COLLECTIONمکمل کلیکشن دیکھیں
Pinterest Share