Word of the dayآج کا لفظ

Martello

کنج انزدا

MEANS: ملک کی حفاظت کے لئے ساحلی قلعہ بندی

معنی: گوشہِ تنہائی

Listen to Urdu Pronunciationالفاظ کے تلفظ سنئیے

Couplet of the day

آج کا شعر

Click on the below image to open up the complete image gallery. مکمل گیلری کو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی تصویر پر کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

جاوید منظر ، ڈاکٹر پروفیسر

Description

تفصیل

معروف اردو شاعر ، پاکستانی ۔25ستمبر 1948ء کراچی میں پیدا ہوئے ، بقیدِ حیات ۔اصل نام : کاظم جاوید عالم ، تخلص : منظرؔ ۔۱۹۶۲ء میں شاعری اک آغاز کیا اور اُس وقت کے معروف ادبی پرچوں میں لکھتے رہے۔پاکستان اور ہندُستان کے مقبول پرچوں مثلاً قومی زبان ، صریر، نقوش ، شب خون وغیرہ میں لکھا اس کے علاوہ اخبارات میں بھی لکھتے رہے ۔۲۰۰۹ء میں ’’شاعری کا دبستانِ کراچی ‘‘ مقالہ تحریر کرنے پر آپ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی ۔جامعہ اردو اور کراچی یونیورسٹی سے بحیثت پروفیسر اردو ادب وابستہ رہے ۔’’روسی سینٹر اوف سائنس اینڈ کلچر‘‘ کی ادبی کمیٹی کے رُکن بھی ہیں ،دیگر بنیادی اراکین میں پروفیسر سحر انصاری ،ڈاکٹر مجیب ظفر انوار حمیدی ، پروفیسر فیروز خسرو ناطق ، پروفیسر جاذب قریشی ، پروفیسر حمایت علی شاعر و دیگر شامل ہیں ۔ڈاکٹر صاحب ’’پاکستان اسٹیل‘‘ میں اپنی ملازمت کے دوران اسٹیل مِل کی ’’ادبی کمیٹی ‘‘ کے مہتمم بھی رہے اور اسٹیل ٹاؤن جیسے پُرفضا مقام پر سالانہ مُشاعروں کا انعقاد بھی کرتے رہے۔اُس مشاعرے کی ایسی دھوم تھی کہ اُس میں حیدر آباد(سندھ) تک سے معروف شاعر آکر شرکت کیا کرتے۔پوری پوری رات وہ مشاعرے جاری رہا کرتے۔اُن مشاعروں کی نظامت جاوید منظرؔ کے ذمہ ہوتی،دراصل اسٹیل مل کی ’’ادبی کمیٹی‘‘ کی بنیاد معروف ادیب اور پاکستان اسٹیل کے سابق چیئر مین حق نواز اختر نے ۱۹۸۲ء میں رکھی تھی۔میں اُس وقت کیڈٹ کالج(اسٹیل ٹاؤن) میں اُردو کا معلم تھا ،بزمِ ادب(پاکستان اسٹیل ) کا رُکن بھی تھا ۔حق نواز اختر صاحب نے ’’بزمِ ادب‘‘ کے لیے انتخابات کرائے اور جاوید منظر ’’بزمِ ادب‘‘ کے پہلے منتخب صدر قرار پائے۔اس کے علاوہ اسٹیل مل کے زیرِ اہتمام ایک ماہانہ ادبی پروگرام’’کہکشاں‘‘ کے نام سے ہوا کرتا تھا ،اس کی مسلسل پانچ سال تک نظامت بھی ڈاکٹر منظرؔ نے کی ۔اسی بزمِ کہکشاں کے تحت ماہنامہ’’کہکشاں‘‘ بھی جاوید منظر کی زیرِ ادارت شایع ہوا کرتا تھا۔ تصانیف : ’’خواب سفر‘‘ (مجموعہ کلام ، ۱۹۸۶ء ) ۔ ’’بے صدا بستیاں ‘‘( مجموعہ کلام ۱۹۹۶ء) ۔ ’’میردل پہ کعبے کا در کُھلا‘‘ ( ۲۰۰۶ء میں دورانِ حج مرتب کردہ حمدیہ و نعتیہ ) ۔ ’’پس منظر سے منظر تک‘‘(خود نوشت سوانح) ۔ ’’ہر ایک چہرہ گلاب ہوگا‘‘(نظمیں ) ۔’’ ہمارے واسطے لہجہ بہت ہے‘‘ (غزلیں) ، وغیرہ نمائندہ نظمیں : ماں ۔ دعا ۔ فکرِ سرسید ۔ شاہ عبد اللطیف بھٹائی ، سُروں کے آئینہ میں (چار سو اشعار پر مبنی مثنوی ) وغیرہ کلام : کون سُنے گا دل کی دھڑکن کب ایسا سناٹا ہوگا بچھڑنا ہے تو مت الفاظ ڈھونڈو ہمارے واسطے لہجہ بہت ہے ماں تم نے محبتوں کے خزانے دیے تھے ماں پُر کیف زندگی کے زمانے دیے تھے ماں خود پائنتی پہ رہ کے سرہانے دیے تھے ماں جب کچھ نہ تھا تو خواب سُہانے دیے تھے ماں اِک روز مجھ سے میری یہ ماں چھوٹ جائے گی سوچا نہ تھا کہ ایسے کمر ٹوٹ جائے گی

Shair Collection

اشعار کا مجموعہ

Compilation of top 20 hand-picked Urdu shayari on the most sought-after subjects and poets

انتہائی مطلوب مضامین اور شاعروں پر مشتمل 20 ہاتھ سے منتخب اردو شاعری کی تالیف

SEE FULL COLLECTIONمکمل کلیکشن دیکھیں
Pinterest Share