Word of the dayآج کا لفظ

Martello

کنج انزدا

MEANS: ملک کی حفاظت کے لئے ساحلی قلعہ بندی

معنی: گوشہِ تنہائی

Listen to Urdu Pronunciationالفاظ کے تلفظ سنئیے

Couplet of the day

آج کا شعر

Click on the below image to open up the complete image gallery. مکمل گیلری کو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی تصویر پر کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

منظور حسین ماہرؔ القادری

Description

تفصیل

معروف اردو شاعر ، 30 جولائی 1907ء میں موضع کیسر کلاں ضلع بُلند شہر(یو پی) میں پیدا ہوئے اور مکہ معظمہ میں 12 مئی 1978ء کو انتقال کیا اور جنت معلی میں تدفین عمل میں لائی گئی۔آپ کے والد ظریفؔ اچھے شاعر اور انگریزی داں تھے ،اُن کا نا م محمد معشوق علی تھا،والدہ : ممتاز بیگم ۔سلسہ قادریہ میں بیعت ہونے کی وجہ سے ’’قادری‘‘ اُن کے نام کا جُز و بن گیا۔۱۹۱۵ء میں انہوں نے انہوں نے ’’کبیر اسکول ‘‘ دبئی میں داخلہ لیا تو وہ ’’گلستان ‘‘ ختم کرچکے تھے ۔ماہر القادری نے 1926ء میں علی گڑھ یونیورسٹی سے ’’انٹر‘‘ کا امتحان پاس کیا ۔والد کی وفات کے بعد ہجرت کے بعد کراچی آگئے،یہاں اپریل ۱۹۴۹ء میں انہوں نے اپنا ادبی پرچہ’’فاران‘‘ جاری کیا ۔شاعر ی کے ساتھ ساتھ ماہر القادری نے افسانے بھی لکھے اور آپ کے افسانوی مجموعوں میں سے چند ایک درج ذیل ہیں : انگڑائی ، طلسم حیات ، حسن و شباب ، نگینے ، وغیرہ آپ نے بمبئی میں فلمی نغمے بھی تحریر کیے اور ۱۹۲۲ء میں آپ کی پہلی غزل ’’گزٹ بلند شہر‘‘ میں شایع ہوئی جو آپ کی پہلی غزل تھی ۔ماہر القادری نے ناول بھی لکھے ،آپ کے ناولوں میں ’’جب میں جوان تھی‘‘ ،’’کردار‘‘ ، ’’کانجی ہاؤس‘‘ وغیرہ مشہور ترین ناول ہیں ۔آپ نے ’’سیرت اور اسلام ‘‘ کے موجوع پر بھی کئی کتابیں لکھیں جن میں ’’آخری رسولؐ ‘‘ ، ’’خدا اور کائنات ‘‘ ، دُرِّ یتیم ؐ ‘‘ ، ’’کارواں حیات‘‘ ، ’’ نقشِ توحید‘‘ اور ’’قولِ فیصل ‘‘ وغیرہ زیادہ مشہور ہیں ۔اس کے علاوہ ماہر القادری نے ’’کاروانِ حجاز‘‘ کے عنوان سے اپنا سفرِ حج بھی تحریر کیا ہے ۔آپ اردو کے علاوہ فارسی زبان میں بھی شاعری کرتے تھے ۔اس کے علاوہ آپ نے علامہ خلیل عرب سے دو سال تک عربی زبان بھی پڑھی۔ نعت نگاری آپ کی خاص جہت ہے ، خاص طور پر آپ کا لکھا ہوا ایک سلام تو بے حد مقبول ہوا : ’’سلام اس کو کہ جس نے بے کسوں کی دست گیری کی !‘‘ مجموعہ ہاے کلام : ظہورِ قدسی ۔ محسوساتِ ماہر ۔ نغماتِ ماہر ۔ جذباتِ ماہر ۔ ذکرِ جمیل ۔ فردوس ، وغیرہ کلا م : قرآن کی فریاد طاقوں میں سجایا جاتا ہوں ، آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں تعویز بنایا جاتا ہوں ، دھو دھو کے پلایا جاتا ہوں جُز دان حریر و ریشم کے اور پھول ستارے چاندی کے پھر عطر کی بارش ہوتی ہے خوشبو میں بسایا جاتا ہوں جس طرح سے طوطا مینا کو کچھ بول سکھائے جاتے ہیں اس طرح پڑھایا جاتا ہوں ، اس طرح سکھایا جاتا ہوں جب قول و قسم لینے کے لیے تکرار کی نوبت آتی ہے پھر میری ضرورت پڑتی ہے ، ہاتھوں پہ اُٹھایا جاتا ہوں دل سوز سے خالی رہتے ہیں ، آنکھیں ہیں کہ نم ہوتی ہی نھیں کہنے کو میں ہر اک جلسے میں پڑھ پڑھ کر سُنایا جاتا ہوں نیکی پہ بدی کا غلبہ ہے ،سچائی سے بڑھ کر دھوکا ہے اِک بار ہنسایا جاتا ہوں ، سو بار رُلایا جاتا ہوں یہ مجھ سے عقیدے کے دعوے ،قانون پہ راضی غیروں کے یوں بھی مجھے رسوا کرتے ہیں ، ایسے بھی ستایا جاتا ہوں کس بزم میں مجھ کو بار نھیں ، کس عُرس میں دھوم نھیں پھر بھی میں اکیلا رہتا ہوں ، مجھ سا بھی کوئی مظلوم نھیں ۱۲؍ مئی ۱۹۷۸ء کو مکہ معظمہ میں نعت کہتے ہوئے آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے اور ’’جنت المعلیٰ‘‘ (مکہ معظمہ)میں دفن کیے گئے ۔

Shair Collection

اشعار کا مجموعہ

Compilation of top 20 hand-picked Urdu shayari on the most sought-after subjects and poets

انتہائی مطلوب مضامین اور شاعروں پر مشتمل 20 ہاتھ سے منتخب اردو شاعری کی تالیف

SEE FULL COLLECTIONمکمل کلیکشن دیکھیں
Pinterest Share