Word of the dayآج کا لفظ

Martello

کنج انزدا

MEANS: ملک کی حفاظت کے لئے ساحلی قلعہ بندی

معنی: گوشہِ تنہائی

Listen to Urdu Pronunciationالفاظ کے تلفظ سنئیے

Couplet of the day

آج کا شعر

Click on the below image to open up the complete image gallery. مکمل گیلری کو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی تصویر پر کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

بہزادؔ لکھنوی

Description

تفصیل

سردار حسین بہزادؔ لکھنوی 1900ء میں پیدا ہوئے،والدین کا تعلق ریاست رامپور سے تھا اور وہ ’’آفریدی‘‘ نسل سے تعلق رکھتے تھے۔بہزادؔ کا انتقال 10اکتوبر 1974ء کو کراچی میں ہوا۔والد کا نام : سجاد حسین بہزادؔ نے انٹر تک تعلیم حاصل کی اور عملی زندگی کا آغاز ’’محکمہ ریلوے ‘‘میں ٹی ٹی ای کی حیثیت سے کیا۔آپ نے آٹھ سال کی عمر سے شعر وسخن کا آغاز کردیا اور ذاخرؔ لکھنوی سے کلام میں اصلاح لی ۔ملازمت کے دوران بہزادؔ علیل رہنے لگے ۔معالجین نے ’’اختلاجِ قلب‘‘ کا عارضہ تشخیص کیا اور اسی عارضے نے اُن کی سرکاری ملازمت لے لی ۔ 1936ء میں بہزادؔ کا پہلا مجموعہ کلام ’’ نغہ نور‘‘ منظرِ عام پر آیا تو ان کی شاعری کی دھوم مچ گئی،خاص طور پر آپ کی ایک غزل تو راتوں رات شُہرت کی تمام منزلیں عبور کرگئی: اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ، ہر چیز مقابل آجائے منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آجائے اے دل کی خلش چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں اُن کی محفل میں اُس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آجائے اے راہبرِ کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یا د ر ہے اُس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آجائے ہاں یاد مجھے تم کرلینا ، آواز مجھے تم سے لینا اس راہِ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آجائے اب کیوں ڈھونڈوں وہ چشمِ کرم ،ہونے دے ستم بالائے ستم میں چاہتا ہوں اے جذبۂ غم مشکل پر سے مشکل آجائے اسی سال یعنی ۱۹۳۶ء میں بہزادؔ نے ’’آل انڈیا ریڈیو ،دہلی‘‘میں ملازمت اختیار کی۔بعد ازاں ۱۹۴۶ء میں لاہور کی فلم ساز کمپنی ’’پنچولی آرٹ پکچرز‘‘ سے منسلک ہوگئے اور ۱۹۴۵ء میں بمبئی جا کر فلموں کے لیے گانے لکھنے شروع کردیے اور ’’روٹی‘‘ ، ’’زمیندار‘‘ ، ’’آگ‘‘ ،’’گجرے ‘‘ ،’’لاڈلی‘‘ اور ’’جگنو‘‘ جیسی مقبول فلموں کے گیت لکھے ۔ بہزادؔ کے صاحب زادے انور بہزاد ریڈیو پاکستان ،کراچی میں نیوز ریڈر بھی رہے ۔بہزادؔ لکھنوی بھی ریڈیو سے ۱۲ سال تک وابستہ رہے ۔اب آپ کا رجحان ’’نعت نگاری‘‘ کی طرف بھی ہوا ور آپ نے نعتیہ کلام کہنا شروع کردیا اور نعتوں کے کئی مجموعے شایع ہوئے ۔آپ کی کہی ہوئی نعتوں نے بھی مقبولیت کے جھنڈے گاڑ دیے۔اس دوران بہزادؔ نے دو حج کیے اور بالآخر ۱۹۷۴ء میں اکتوبر کی ۱۰؍ تاریخ کو یہ عظیم اردو شاعر ہم سے جُدا ہوگیا ۔حکومتِ وقت نے شمالی ناظم آباد بہزاد کی یاد میں ایک ایکڑ زمین پر ایک ٹرسٹ قائم کیا جو سخی حسن قبرستان کے احاطے ہی میں واقع ہے،جہاں بہزادؔ کی تدفین عمل میں لائی گئی ۔ مجموعہ ہاے کلام : بہزادؔ نے 33مجموعہ کلام تخلیق کیے جو ایک ریکارڈ بھی ہے ،ان میں غزل ، نظم ، نعت ، حمد ، سبھی کچھ شامل ہے ۔ چند ایک یہ ہیں : ثنائے حبیب ؐ ۔ کیف و سرور ۔ نعتِ حضورؐ ۔ ذکرِ حضور ؐ ۔ نغماتِ بہزادؔ ۔ موجِ نور ۔ چراغِ طور ۔ کرم بالائے کرم ۔ وجہ وحال ۔ نغمہ روح ۔ فیضانِ حرم ۔ کفر وایماں ، وغیرہ کلام : میرے ذہن میں اس وقت 1948ء میں بھارت میں راج کپور کی بنائی ہوئی فلم ’’آگ‘‘ کا ایک نغمہ آرہا ہے ،جس کے موسیقار تھے رام گنگولی اور جسے مکیش نے گایا تھا ، کلام تھا ، بہزادؔ لکھنوی کا ، ملاحظہ فرمائیے غزل زندہ ہوں اس طرح کی غمِ زندگی نھیں جلتا ہوا دیا ہوں مگر روشنی نھیں ہونٹوں کے پاس آئے ہنسی کیا مجال ہے دل کا معاملہ ہے کوئی دل لگی نھیں گو مدتیں ہوئی ہیں کسی سے جُدا ہوئے لیکن یہ دل کی آگ ابھی تک بُجھی نھیں آنے کو آچکا تھا کنارا بھی سامنے خود اس کے پاس ہی میری نیّا گئی نھیں یہ چاند ، یہ ہوا ، یہ فضا سب ہیں ماند ماند جب تُو نھیں تو ان میں کوئی دل کشی نھیں

Shair Collection

اشعار کا مجموعہ

Compilation of top 20 hand-picked Urdu shayari on the most sought-after subjects and poets

انتہائی مطلوب مضامین اور شاعروں پر مشتمل 20 ہاتھ سے منتخب اردو شاعری کی تالیف

SEE FULL COLLECTIONمکمل کلیکشن دیکھیں
Pinterest Share