Word of the dayآج کا لفظ

Martello

کنج انزدا

MEANS: ملک کی حفاظت کے لئے ساحلی قلعہ بندی

معنی: گوشہِ تنہائی

Listen to Urdu Pronunciationالفاظ کے تلفظ سنئیے

Couplet of the day

آج کا شعر

Click on the below image to open up the complete image gallery. مکمل گیلری کو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی تصویر پر کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

پروفیسر آفاق صدیقی

Description

تفصیل

معروف پاکستانی شاعر ، صحافی ، نقاد ، محقق ، ڈراما نگار ، استاد ۔اردو ، سندھی اور انگریزی زبانوں میں شاعری کی۔آپ کا پورا نام ’’ محمد آفاق احمد صدیقی ‘‘ اور آفاق ؔ تخلص تھا ۔4 مئی 1928 ء کو ’’ مین پوری‘‘ (بھارت) میں پیدا ہوئے ۔آبائی وطن شیخ پورہ ( فتح گڑھ) ہے۔آپ کے والد محمد اسحاق محکمہ پولیس میں تھے۔وہ عربی ، فارسی ، اردو ، ہندی اور تھوڑی بہت انگریزی جانتے تھے ۔جب آفاق چوتھی جماعت میں آئے تو تو ان کے والد نے پولیس کی نوکری چھوڑ دی۔آفاق صدیقی نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں ہی حاصل کی ۔1939ء میں سرکاری اسکول میں داخل کرائے گئے ،یہاں سالانہ امتحانات میں انہوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی جس کی بدولت مڈل اسکول کی تعلیم تک وظیفہ ملتا رہا۔ان کے والد کی دلی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا پڑھ لکھ کر پروفیسر بنے۔1942ء میں جب آفاق صدیقی نے ورنا کیولر امتحان پاس کرلیا تو ان کے والد صاحب نے نا مساعد حالات کے باوجود ان اک گورنمنٹ ہائی اسکول فتح گڑھ چھاؤنی میں داخلہ کروادیا ۔یہاں آفاق صاحب خود بھی پڑھتے رہے اور کچھ لڑکوں کو ٹیوشن بھی پڑھاتے رہے ۔اس طرح انہوں نے اس اسکول سے اوّل درجہ میں میٹرک کا امتحان پاس کرلیا۔یہاں انہوں نے ایک معمولی سی ملازمت بھی کی لیکن قیامِ پاکستان کے بعد کراچی آگئے۔ قیامِ پاکستان کے وقت آفاق صدیقی کے بھائی اخلاق صدیقی پاکستان آئے تو انہوں نے آفاق صدیقی کو بھی اپنے پاس بلا لیا ۔پاکستان آنے کے بعد انہوں نے کراچی میں قیام کیا اور اپنی تعلیم پر مزید توجہ دی اور کراچی یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم۔ اے کی ڈگری حاصل کی ۔یہاں آپ نے ’’بینک اوف انڈیا ‘‘ میں ملازمت بھی کی لیکن بوجہ بیماری کراچی کو خیر آباد کہہ کر سکھر کو اپنا مستقر بنا لیا اور وہیں درس و تدریس سے منسلک ہوگئے ۔جیسا دیس ویسا بھیس کے مصداق یہاں انہوں نے سندھی پڑھی ، سیکھی ، بولی اور لکھی ۔اس طرح انہوں نے سندھی زبان پر دسترس حاصل کرلی ۔آفاق صدیقی کو ہندی اور فارسی پر بھی عبور تھا ۔سکھر میں وہ مسلم ایجوکیشن سوسائٹی سے بھی وابستہ رہے ۔آپ کو شعرو سضن سے لگاؤ ورثہ میں ملا تھا ۔وہ ادبی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔شروع میں احسان دانش کے اثرات قبول کیے لیکن پھر اپنے انداز میں شاعری کی۔ پروفیسر آفاق صدیقی کا انتقال 17 جون 2012 ء کو کراچی میں ہوا ۔آپ برِ صغیر کے نام ور نقاد ، محقق ، ماہرِ تعلیم۔ مترجم ، شاعر اور استاد تھے۔ تصانیف : پاکستان ہمارا ہے ( ملی نغمے ) ۔ کوثر و تسنیم ۔ قلب سراپا (پہلا مجموعہ کلام ) ۔ ریزہ جاں (دوسرا مجموعہ کلام) ۔تاثرات ۔ عکسِ لطیف ۔ اقوالِ سچل ۔ شاعرِ حق نوا ۔ پیامِ لطیف ۔ صبح کرنا شام کا ( خود نوشت سوانح عمری) ۔ سیرۃ البشر ۔ بساطِ ادب ۔ جدید سندھی ادب کے تراجم ۔ شاہ جو رسالو کا منظوم ترجمہ ۔ ڈاکٹر محمد محسن ، فن و شخصیت ۔ 12 سے زائد نصابی کتابیں اور جریدے اعزازات : صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی ۔ شاہ لطیف ایوارڈ ۔ شاہ لطیف گولڈ میڈل ۔ مولانا محمد حسین آزاد ایوارڈ ، وغیرہ نمونہ کلام : اپنے والد کے انتقال پر آپ نے ایک نظم کہی ، پیشِ خدمت ہے : ہے وہی دنیا وہی ہم ہیں مگر تیرے بغیر سُونے سُونے سے ہیں یہ شام و سحر تیرے بغیر راس کیا آئے گی کوئی رہگزر تیرے بغیر کیسے طے ہوگا یہ غربت کا سفر تیرے بغیر رو برو اک ڈھیر ہے مٹی کا باقی کچھ نھیں اب نہ گھر والے سلامت ہیں ، نہ گھر تیرے بغیر کھو گئیں وہ صورتیں سب جانی پہچانی ہوئی کس کو دیکھوں اور کیا آئے نظر تیرے بغیر چھوڑ کر اس حال میں او جانے والے دیکھ تو بوجھ کتنا ہے دلِ آفاق پر تیرے بغیر

Shair Collection

اشعار کا مجموعہ

Compilation of top 20 hand-picked Urdu shayari on the most sought-after subjects and poets

انتہائی مطلوب مضامین اور شاعروں پر مشتمل 20 ہاتھ سے منتخب اردو شاعری کی تالیف

SEE FULL COLLECTIONمکمل کلیکشن دیکھیں
Pinterest Share