Word of the dayآج کا لفظ

Martello

کنج انزدا

MEANS: ملک کی حفاظت کے لئے ساحلی قلعہ بندی

معنی: گوشہِ تنہائی

Listen to Urdu Pronunciationالفاظ کے تلفظ سنئیے

Couplet of the day

آج کا شعر

Click on the below image to open up the complete image gallery. مکمل گیلری کو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی تصویر پر کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

صوفی غلام مصطفٰے تبسم

Description

تفصیل

معروف اردو شاعر ، صوفی غلام مُصطفٰے نام ، تبسم ؔ تخلص ۔ 9 اگست 1899ء کو امرت سر میں پیدا ہوئے ،کچھ کتابوں میں آپ کی تاریخِ پیدائش 4 اگست 1899ء درج ہے لیکن ’’ پنجاب پبلک ریکارڈ ‘‘ کے مطابق ہم نے وہی تاریخ لکھی ہے جو معتبر ہے ۔ آپ کا انتقال 1978 ء لاہور میں ہوا ۔ صوفی تبسم نے اپنی عملی زندگی کا آغاز درس و تدریس سے کیا اور معلم بھی رہے ۔اس کے ساتھ ساتھ وہ جن بچوں کو درس دیا کرتے تھے ،اُن کے لیے باقاعدگی سے شاعری بھی کرتے رہے اور بعد میں یہی نظمیں اُن کی بڑی پہچان بنیں ۔صوفی تبسم نے بڑوں کے لیے بھی لکھا ہے لیکن جو شہرت اُنھیں بچوں کے ادب سے ملی ،اس سے انحراف نھیں کیا جاسکتا ۔’’ ٹوٹ بٹوٹ ‘‘ ان کا لافانی کردار ہے ۔ صوفی تبسم کہتے ہیں : ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ باپ تھا اس کا میر سلوٹ پیتا تھا وہ سوڈا واٹر کھاتا تھا بادام اخروٹ صبح کو ہوتا کیماڑی میں شام کو ہوتا مٹھن کوٹ انہوں نے ’’ ٹوٹ بٹوٹ ‘‘ کردار پر شہرۂ آفاق نظمیں کہیں جن میں ’ ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی ‘ ، ’ٹوٹ بٹوٹ چلے بازار ‘ ، ’ٹوٹ بٹوٹ نے لڈو کھایا ‘ و دیگر نظمیں ۔بچوں کے لیے اُن کی شاعری کی بھرپور کتابیں : جھولنے ۔ ٹوٹ بٹوٹ ۔ کہاوتیں اور پہیلیاں ۔ سنو گپ شپ وغیر ہ ہیں صوفی تبسم نے بڑوں کے لیے بھی جم کر لکھا ہے ،وہ ماہنامہ ’’ لیل و نہار ‘‘ کے ایڈیٹر بھی رہے اور ریڈیو پاکستان سے بھی وابستہ رہے۔پاکستان ٹیلی وژن اور ریڈیو لاہور سے ایک پروگرام’’ اقبال کا ایک شعر ‘‘ بھی کرتے تھے جو برسوں جاری رہا ۔وہ ہر میدان کے شہہ سوار تھے ، نظم ہو یا نثر ، غزل ہو یا گیت ، مِلّی نغمے ہوں یا بچوں کے گیت ، انھیں ہر جہت میں لکھنا آتا تھا اور کمال لکھنا آتھا تھا ۔فیروز سنز لاہور نے اُن کی کئی رنگا رنگ کتابیں چھاپی ہیں جو ننھے مُنے بچوں کے لیے کسی تحفے سے کم نھیں ، خود میرا بنیادی تعلق بھی بچوں کے ادب ہی سے ہے اس لیے صوفی تبسم میرے لیے کسی استاد سے کم نھیں ۔آپ کی شفیق شخصیت اور درویشانہ انداز ہر کسی کو آپ کا گرویدہ کردیا کرتا۔آپ شخص نھیں بلکہ ’’ شخصیت‘‘ تھے اور بہت بڑے عالم تھے۔1966ء میں حکومتِ ایران نے آپ کو ’’ تمغہ نشانِ سپاس ‘‘ کیا بعد ازاں حکومتِ پاکستان نے ’’ ستارۂ امتیاز ‘‘ پیش کیا ۔صوفی تبسم گورنمنٹ کالج ، لاہور کے شعبہ فارسی سے بھی بحیثیت استاد وابستہ رہے ۔جیسا کہ پہلے لکھ چکا ہوں کہ صوفی تبسم کم و بیش نصف صدی تک ریڈیو اور ٹی وی سے وابستہ رہے ۔آپ کی معروف ترین نظموں اور غزلوں کو کئی گلوکاروں نے گایا جن میں نور جہاں ، فریدہ خانم وغیرہ شامل ہیں ۔ نمونہ کلام : وہ مجھ سے ہوئے ہم کلام اللہ اللہ کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ اللہ یہ روئے درخشاں یہ زلفوں کے سائے یہ ہنگامۂ صبح و شام اللہ اللہ وہ سہما ہوا آنسوؤں کا تلاطم وہ آبِ رواں و خرام اللہ اللہ وہ مجھ سے ہوئے ہم کلام اللہ اللہ کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ اللہ

Shair Collection

اشعار کا مجموعہ

Compilation of top 20 hand-picked Urdu shayari on the most sought-after subjects and poets

انتہائی مطلوب مضامین اور شاعروں پر مشتمل 20 ہاتھ سے منتخب اردو شاعری کی تالیف

SEE FULL COLLECTIONمکمل کلیکشن دیکھیں
Pinterest Share