Word of the dayآج کا لفظ

Martello

کنج انزدا

MEANS: ملک کی حفاظت کے لئے ساحلی قلعہ بندی

معنی: گوشہِ تنہائی

Listen to Urdu Pronunciationالفاظ کے تلفظ سنئیے

Couplet of the day

آج کا شعر

Click on the below image to open up the complete image gallery. مکمل گیلری کو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی تصویر پر کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

ثمینہ راجا

Description

تفصیل

اردو شاعرہ ، مُدیرہ ، براڈ کاسٹر ثمینہ راجا 11 ستمبر 1961ء کو رحیم یار خان میں پیدا ہوئیں ۔ بقیدِ حیات ۔جامعہ پنجاب سے ایم۔اے (اردو ادبیات) میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔گھریلو روایات سے انحراف کرتے ہوئے یعنی جاگیردارانہ نظام کی مخالفت کرتے ہوئے آپ نے بہت کم سنی یعنی گیارہ برس کی عمر سے شاعری شروع کردی اور جلد ہی آپ کا کلام برِ صغیر کے ممتاز ادبی جرائد کی زینت بنا۔جیسا کہ میں نے ابھی عرض کیا کہ ثمینہ کے گھر میں خواتین کی تعلیم تک کا کوئی رواج نہ تھا ، چنانچہ آپ نے چُپ چُپاتے پرائیویٹ طور پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرلی اور اپنے خاندان کے لیے ایک مثال بن گئیں ۔آپ پوشیدہ رہتے ہوئے اپنے دور کے ممتاز ادبی اخبارات و جرائد میں پابندی سے لکھتی رہیں جن میں افکار ، اوراق ، نقوش ، فنون ، سیپ اور نیا دور جیسے معبتر رسائل شامل ہیں ۔آپ نے ستّر کی دہائی سے شاعری کا آغاز کی اور ۱۹۹۵ء میں آپ کا پہلا مجموعہ کلام ’’ ہویدا‘‘ کے عنوان سے منظرِ عام پر آیا۔۱۹۹۸ء میں آپ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ادبی پرچے ’’کتاب‘‘ کی مُدیرہ ہوئیں ، یہ وہی وقیع ادبی پرچا ہے جس کے مدیران میں ابن انشاء اور ذوالفقار تابش ؔ وغیرہ جیسی جیّد ادبی شخصیات شامل تھیں ۔۱۹۹۲ء میں آپ نے ’’ مستقبل‘‘ کے نام سے ایک ادبی جریدے کا اجراء کیا جو جاری نہ رہ سکا پھر اس کے بعد اپنے جریدے ’’آثار‘‘ کی ادارت سنبھالی اور پوری ادبی دنیا میں اپنی پہچان اور شناخت قائم کی ۔احمد ندیم قاسمی ، احمد فراز ،نسیم درانی دیگر مشاہیرِ ادب نے آپ کے کلام کو سراہا اور آپ کو خواتین کی ’’ ن م راشد‘‘ قرار دیا۔ مجموعہ ہائے کلام : ثمینہ ایک درجن کے قریب شعری مجموعوں کی خالق ہیں ۔جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں : ہویدا ۔ شہرِ سبا ۔ وصال ۔ خوبنائے ۔ باغِ شب ۔ باز دید ۔ پری خانہ ۔ ہفت آسمان ۔ عدن کے راستے پر ۔ دلِ لیلیٰ ۔ عشقِ آباد ۔ کلیاتِ ثمینہ راجا ( دو جلدیں ) وغیرہ نمونہ کلام : تنہا سرِ انجمن کھڑی تھی میں اپنے وصال سے بڑی تھی اِک پھول تھی اور ہوا کی زد پر پھر میری ہر ایک پنکھڑی تھی اک عمر تلک سفر کیا تھا منزل پہ پہنچ کر گر پڑی تھی طالب کوئی میری نفی کا تھا اور شرط یہ موت سے کڑی تھی وہ خود کو خدا سمجھ رہا تھا میں اپنے حضور میں کھڑی تھی

Shair Collection

اشعار کا مجموعہ

Compilation of top 20 hand-picked Urdu shayari on the most sought-after subjects and poets

انتہائی مطلوب مضامین اور شاعروں پر مشتمل 20 ہاتھ سے منتخب اردو شاعری کی تالیف

SEE FULL COLLECTIONمکمل کلیکشن دیکھیں
Pinterest Share