Word of the dayآج کا لفظ

Martello

کنج انزدا

MEANS: ملک کی حفاظت کے لئے ساحلی قلعہ بندی

معنی: گوشہِ تنہائی

Listen to Urdu Pronunciationالفاظ کے تلفظ سنئیے

Couplet of the day

آج کا شعر

Click on the below image to open up the complete image gallery. مکمل گیلری کو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی تصویر پر کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

ن ۔ م ۔ راشد

Description

تفصیل

معروف اردو شاعر ، نذر محمد نام ، ن م راشدؔ تخلص ۔ یکم اگست 1910ء علی پور چٹھہ (گوجرانوالہ،وزیر آباد) میں پیدا ہوئے اور 9 اکتوبر 1975ء کو لندن میں انتقال کیا۔ایک روایت کے مطابق ان کی عیسائی بیوی جو مسلمان ہو گئی تھی، اُس نے اپنے مذہبی عقائد کی بنا پر عجلت سے کام لیتے ہوئے راشدؔ کی لاش کو نذرِ آتش کروادیا۔راشدؔ کے والد راجا نذر محمد جنجوعہ معروف زمیں دار تھے۔وزیر آباد کی مشہور شخصیت تھے۔ راشدؔ نے گورنمنٹ کالج ، لاہور سے تعلیم حاصل کی ۔ابتدا میں وہ علامہ عنایت مشرقی کی ’’خاکسار تحریک ‘‘ سے بہت متاثر تھے اور باقاعدہ ہاتھ میں بیلچہ لے کر اور وردی پہن کر مارچ کیا کرتے تھے۔راشد نے اردو شاعری کو پُرانی روش سے پاک کرکے بین الاقوامی انداز سے متعارف کروایا۔1942ء میں ن م راشد کا پہلا مجموعہ کلام ’’ ماورا ‘‘ شایع ہوا جو جدید اردو شاعری میں نظم کا پہلا مجموعہ ہے ۔اس کتاب کے شایع ہونے سے اردو شاعری میں انقلاب برپا ہوگیا اور یہ آزاد نظم کا پہلا ’’انقلاب‘‘ تھا اور نذر محد راشد اس کے بانی قرار پائے۔ن م راشد سے پہلے میرا جی جیسے کہنہ مشق شاعر نے اردو میں آزاد نظم کہی تھی لیکن وہ ایک خاص رجحان تک محدود تھی ۔راشدؔ کی نظموں میں اکثر ایک جدید انسان کو متعارف کرایا جاتا ہے ۔ان کے دیگر مجموعوں میں ’’ایران میں اجنبی ‘‘ اور ’’ لا انسان ‘‘ بہت مشہور و مقبول ہوئے جبکہ ’’ گمان کا ممکن ‘‘ ان کی وفات کے بعد شایع ہوئی ۔ن م راشد کا انتقال لندن میں ہوا تھا ۔ان کی آخری رسومات کے وقت صرف دو افراد وہاں موجود تھے ۔معروف شاعر ساقی فاروقی اور راشدؔ کی انگریز بیوی ’’ شِیلا ‘‘ ، ساقیؔ لکھتے ہیں کہ شیلا نے جلد بازی سے کام لیتے ہوئے راشد کے جسم کو نذرِ آتش کروادیا اور اس سلسلے میں ان کے بیٹے شہریار سے بھی مشورہ نہیں لیا جو ٹریفک میں پھنس کر وہاں نھیں پہنچ سکے تھے۔کچھ روایات کے مطابق راشدؔ اپنی آخری عمر میں اسلام سے دور ہوچکے تھے اور انہوں نے خود ہی اپنی لاش کو ریت پر جلانے کی وصیت کی تھی ۔ن م راشد کے دوسرے بھائی بھی آخری عمر میں ہندو دھرم اختیار کرچکے تھے ۔راشدؔ کا کلام ’’ کلیاتِ ن م راشدؔ ‘‘ کے عنوان سے یکجا کیا گیا ۔ خواب ۔ زندگی سے ڈرتے ہو اور انتقام آپ کی لافانی نظمیں ہیں ۔ نمونہ کلام : ’’ابو لہب کی شادی ‘‘ شبِ زفافِ ابو لہب تھی مگر خدایا وہ کیسی شب تھی ابو لہب کی دلہن جب آئی تو سر پر ایندھن ، گلے میں سانپوں کے ہار لائی نہ اس کو مشّاطگی سے مطلب نہ مانگ غازہ ، نہ رنگ و روغن گلے میں سانپوں کے ہار اس کے تو سر پہ ایندھن خدایا کیسی شبِ زفافِ ابو لہب تھی یہ دیکھتے ہی ہجوم بپھرا بھڑک اُٹھے یوں غضب کے شعلے کہ جیسے ننگے بدن پہ جابر کے تازیانے جوان لڑکوں کی تالیاں تھیں نہ صحن میں شوخ لڑکیوں کے تھرکتے پاؤں تھرک رہے تھے نہ نغمہ باقی ، نہ شادیانے ابو لہب نے یہ رنگ دیکھا لگام تھامی ، لگائی مہمیز ، ابولہب کی خبر نہ آئی ابولہب کی خبر جو آئی تو سالہا سال کا زمانہ غبار بن کر بکھر چکا تھا ابو لہب اجنبی زمینوں کے لعل و گوہر سمیٹ کر پھر وطن کو لوٹا ہزار طرّار و تیز آنکھیں پرانے غرفوں سے جھانک اُٹھیں ہجوم ، پیر وجواں کا گہرا ہجوم اپنے گھروں سے نکلا ابو لہب کے جلوس کو دیکھنے کو لپکا ’’ابو لہب !‘‘ اک شبِ زفاف ابو لہب کا جلا پھپھولا خیال کی ریت کا بگولا وہ عشقِ برباد کا ہیولا ہجوم میں سے پُکار اُٹھی ’’ابو لہب ! تُو وہی جس کی دلہن جب آئی، تو سر پر ایندھن ، گلے میں سانپوں کے ہار لائی ؟‘‘ ابولہب ایک لمحہ ٹھٹکا ،لگام تھامی ، لگائی مہمیز ابولہب کی خبر نہ آئی

Shair Collection

اشعار کا مجموعہ

Compilation of top 20 hand-picked Urdu shayari on the most sought-after subjects and poets

انتہائی مطلوب مضامین اور شاعروں پر مشتمل 20 ہاتھ سے منتخب اردو شاعری کی تالیف

SEE FULL COLLECTIONمکمل کلیکشن دیکھیں
Pinterest Share