Word of the dayآج کا لفظ

Martello

کنج انزدا

MEANS: ملک کی حفاظت کے لئے ساحلی قلعہ بندی

معنی: گوشہِ تنہائی

Listen to Urdu Pronunciationالفاظ کے تلفظ سنئیے

Couplet of the day

آج کا شعر

Click on the below image to open up the complete image gallery. مکمل گیلری کو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی تصویر پر کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

ادا جعفری

Description

تفصیل

برِ صغیر کی پہلی شاعرہ جنہوں نے آزادی کے بعد اردو شاعری میں جدیدترین رجحانات پیش کیے ۔بدایوں ( یُو ۔ پی ، بھارت) میں پیدا ہوئیں ۔پہلے اداؔ بدایونی تخلص کیا اور نور الحسن جعفر ی صاحب سے شادی کے بعد ’’اداؔ جعفری‘‘ ہو گئیں ۔خاندانی نام ’’ عزیزہ جہاں ‘‘ ، 11 اگست 1927ء کو ’’ ٹونک والا پھاٹک‘‘(بدایوں شریف) میں پیدا ہوئیں۔گیارہ سال کی عمر سے شاعری کاآغاز کیا ۔ماشاء اللہ بقیدِ حیات ہیں اور انتہائی علیل ہیں (اگست 2012تک)،جب تک یہ سطور لکھ رہا ہوں ۔اردو میں نسائی شاعری کی بانی ہیں ۔اللہ آپ کو طویل عمر اور صحتِ کاملہ عطا فرمائے،آمین ! بدایوں میں جب کبھی مُشاعروں میں جگر مُراد آبادی صاحب تشریف لاتے تو اداؔ اپنا کلام انھیں دکھلاتیں اور اصرار کرتیں کہ اس کو مزید کس جہت سے نکھارا جا سکتا ہے۔جگر اُس زمانے میں ایسے شاعر تھے کہ بڑے بڑے گورنر اور اعلیٰ سرکاری عہدے دار اُن کا احترام کرتے تھے۔اداؔ کا کلام پڑھ کر جگر سر دُھنا کرتے اور ایسے نت نئے خیالات پیش کرنے پر اداؔ بدایونی کی حوصلہ افزائی بھی کرتے۔ان تمام یادداشتوں کو محترمہ اداؔ جعفری نے اپنی خود نوشت ’’ جو رہی سو بے خبری رہی ‘‘ میں بیان کیا ہے۔ اداؔ جعفری کا فن بامِ عروج پر پہنچ چکا تھا اور 1962ء میں آپ کا پہلا مجموعہ کلام ’’ میں ساز ڈھونڈتی رہی‘‘ منظرِ عام پر آیا اور ادبی حلقوں میں ستائش کا ایک شور مچ گیا؂ ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے آئے تو سہی برسرِ الزام ہی آئے حیران ہیں ، لب بستہ ہیں ، دل گیر ہیں غنچے خوشبو کی زبانی تیرا پیغام ہی آئے تاروں سے سجالیں گے رہِ شہرِ تمنا اب دور نھیں صبح چلو شام ہی آئے کیا راہ بدلنے کا گِلا ہم سفروں سے جس رہ پہ چلے تیرے درو بام ہی آئے باقی نہ رہے ساکھ ادا ؔ دشتِ جنوں کی دل میں اگر اندیشہ انجام ہی آئے ’’میں ساز ڈھونڈتی رہی‘‘ کی بھرپور پذیرائی کے خاصے وقفے بعد دوسرا مجموعہ کلام ’’ سازِ سخن بہانہ ‘‘ شایع ہوا۔اس کے بعد ’’ غزالاں تم تو واقف ہو ‘‘ وغیرہ نے اردو نسائی شاعری میں اداؔ جعفری کو امر کردیا ۔ پاکستان کے تین صدور نے آپ کو اعلیٰ سول اعزازات پیش کیے ۔کناڈا اور امریکا میں ’’اردو مرکز خواتین ونگ‘‘ کی صدر بھی رہیں ۔دُنیا بھر میں آپ کی شاعری کا کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔راقم الحروف نے ناہید اختر کی گائی ہوئی آپ کی ایک نظم ’’ دو نین کنول‘‘ کا ہندی اور انگریزی زبانوں میں ترجمہ کیا۔ مجموعہ ہائے کلام : میں ساز ڈھونڈتی رہی ۔ سازِ سخن بہانہ ۔ غزالاں تم تو واقف ہو ۔ شہرِ درد ۔ جو رہی سو بے خبری رہی ( خود نوشت سوانح ) نمونہ کلام : ’’ دو نین کنول ‘‘ دو نین کنول، دو نین کنول گھونگھٹ میں گھنیری رات لیے آنچل میں بھری برسات لیے کچھ پائے ہوئے کچھ کھوئے بھی کچھ جاگے بھی ، کچھ سوئے بھی دو نین کنول ، دو نین کنول چنچل آشا کا دان لیے گمبھیر گھٹا کا مان لیے ساون کے سبھی سنگیت بھرے کچھ آس بھرے ، کچھ دیپ بھرے ان گلیوں دیپ جلائیں سکھی یہ بھونرے کچھ منڈ لائیں سکھی سپنوں سے بوجھل بوجھل دو نین کنول ، دو نین کنول کچھ گھبرائے ، کچھ شرمائے کچھ شرما کر وہ اِترائے کچھ اُلجھی سلجھی آشائیں کچھ بُوجھی بُوجھی بھاشائیں سکھی کوئی یہ بھید نہ پا جائے نینوں سے بوجھل بوجھل دو نین کنول

Shair Collection

اشعار کا مجموعہ

Compilation of top 20 hand-picked Urdu shayari on the most sought-after subjects and poets

انتہائی مطلوب مضامین اور شاعروں پر مشتمل 20 ہاتھ سے منتخب اردو شاعری کی تالیف

SEE FULL COLLECTIONمکمل کلیکشن دیکھیں
Pinterest Share