Word of the dayآج کا لفظ

Martello

کنج انزدا

MEANS: ملک کی حفاظت کے لئے ساحلی قلعہ بندی

معنی: گوشہِ تنہائی

Listen to Urdu Pronunciationالفاظ کے تلفظ سنئیے

Couplet of the day

آج کا شعر

Click on the below image to open up the complete image gallery. مکمل گیلری کو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی تصویر پر کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

جوش ملیح آبادی

Description

تفصیل

شبیر حسن خان ، جوشؔ تخلص ، اردو کے نامی گرامی ماہرِ لسانیات اور شاعر۔5 دسمبر 1894ء کو ملیح آباد (یو پی ، ہندُستان) میں پیدا ہوئے اور 22 فروری 1982ء کو اسلام آباد میں انتقال کیا۔’’شاعرِ شباب ‘‘ اور ’’ شاعرِ انقلاب ‘‘ حضرت جوش ملیح آبادی :؂ کام ہے میرا تغیر ، نام ہے میرا شباب میرا نعرہ انقلاب و انقلاب و انقلاب جوش ملیح آبادی اُردو دانی کے اعتبار سے ’’یدِ طولیٰ ‘‘ رکھتے تھے۔اپنی اسی خوبی کی بنا پر اردو لسانیات میں ایک ’’سند‘‘ کا درجہ رکھتے تھے۔ ابتدا میں والد نے آپ کو شاعری سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن جوش کمرے میں مقید ہو کر بھی’’ مالن ‘‘ اور ’’ ناگن ‘‘ جیسی نظمیں کہتے رہے ۔والد کی وفات کے بعد ایک متمول گھرانے کا فرد ہونے کے سبب آپ نے شاعری کا آغاز کیا اور ہر صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی۔ غزل ، نظم ، گیت (ادبی و فلمی)، مرثیہ ، رباعی ، قطعہ ، مثنوی ،مسدس ، مخمس ، ہر صنفِ سخن میں کہا۔عربی ، فارسی ، ہندی اور انگریزی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا۔دارالترجمہ ( حیدر آباد دکن ) اور اردو لغت بورڈ (پاکستان) میں اہم ذمہ داریاں سر انجام دیں۔فی البدیہہ گوئی کا یہ عالم تھا کہ بسترِ مرگ پر تھے کہ اُس وقت کے وزیرِ اطلاعات مولانا کوثر نیازی عیادت کو پہنچے۔طبیعت پوچھی۔جوشؔ صاحب نے اشارے سے پاس بُلایا اور مولانا کے کان میں اپنی زندگی کا آخری شعر پڑھا ؂ یوں پھریں آشفتہ حال ، اہلِ کمال افسوس ہے اے کمال افسوس ہے ، تجھ پر کمال افسوس ہے صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان نے علالت کے دوران آپ کو ملٹری اسپتال ، راول پنڈی میں علاج کا کہا اور سرکاری طور پر آپ کا علاج شروع ہوا لیکن مرض الموت سے شفا یاب نہ ہو سکے اور ۲۲ ؍ فروری ۱۹۸۲ ء کو آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے ۔ جوشؔ صاحب کا کام ایک نشست میں سمیٹنا یا اُن کے شعری اور نثری کام کا احاطہ کرنا ناممکن ہے ، تاہم نظم و نثر میں ان کے معرکے(تصانیف) موجود ہیں ، جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں: شاعری : روحِ ادب ۔ آوازہ حق ۔ شاعر کی راتیں ، جوش کے سو اشعار ۔ نقش و نگار ۔ شعلہ و شبنم ۔ پیغمبرِ اسلام ۔ فکر و نشاط ۔ جنوں و حکمت ۔ حرف و حکایت ۔ حسینؑ اور انقلاب ۔ آیات و نغمات ۔ سنبل و سلاسل ۔ سیف و سبو ۔ سموم و سبا ۔ طلوعِ فکر ۔ قطرۂ قلزم ۔ الہام و افکار ۔ جوش کے مرثیے ۔ محراب و مضراب ۔ دیوانِ جوشؔ وغیرہ نثر : مقالاتِ جوشؔ ۔ اوراقِ زرّیں ۔ جذباتِ فطرت ۔ اشارات ۔ مقلالاتِ جوش ؔ ۔ مکالماتِ جوشؔ ۔ یادوں کی برات( خود نوشت سوانح عمری) وغیرہ وغیرہ نمونہ کلام : ۱۹۶۶ء میں جوشؔ ملیح آبادی نے پاکستانی فیچر فلم ’’آگ کا دریا ‘‘ کے کئی نغمے لکھے ۔ایک نغمہ پیشِ خدمت ہے۔جسے ملکہ ترنم نور جہاں نے گایا تھا ؂ ہوا سے موتی برس رہے ہیں ، فضا ترانے سُنا رہی ہے جگر جگر ہے تما م صحرا کلی کلی جگمگا رہی ہے جہاں کی ہر شام ایک دیوی ، جہاں کی ہر صبح ایک رانی جہاں برستا ہے رنگ دھانی اُدھر مڑی ہے میری جوانی ہر ایک ساغر کھنک رہا ہے ہر ایک شے گُنگُنا رہی ہے ہوا سے موتی برس رہے ہیں میرے مچلتے ہوئے لہو میں خوشی کا دریا اُبل رہا ہے کلی میرے دل کی کھل رہی ہے بتاؤ پھولو یہ بات کیا ہے یہ کون میری طرف بڑھا ہے یہ کس کی آواز آرہی ہے تمام جنگل مہک رہا ہے ، حیا سے پنڈا دہک رہا ہے دوپٹہ سر سے ڈھلک رہا ہے ،پیالہ جیسے چھلک رہا ہے یہ دل ارے کیوں دھڑک رہا ہے یہ شرم مجھ کو کیوں آرہی ہے

Shair Collection

اشعار کا مجموعہ

Compilation of top 20 hand-picked Urdu shayari on the most sought-after subjects and poets

انتہائی مطلوب مضامین اور شاعروں پر مشتمل 20 ہاتھ سے منتخب اردو شاعری کی تالیف

SEE FULL COLLECTIONمکمل کلیکشن دیکھیں
Pinterest Share