Description
تفصیل
معروف پاکستانی شاعر ، اصل نام افتخار حسین عارف ، تخلص افتخار عارفؔ ، 21 مارچ 1943 ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے ۔ماشاء اللہ بقیدِ حیات ہیں۔غزل آپ کی خاص رُجحان ہے۔افتخار عارف نے لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم ۔ اے کی اور ریڈیو پاکستان میں خبریں پڑھنے سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔اس دوران پاکستان ٹیلی وژن سے کوئز پروگرام ’’کسوٹی ‘‘ کا پائلٹ پروگرام تیار کیا گیا جس میں معروف دانش ور عبیداللہ بیگ کے ساتھ افتخار عارف بھی ماہر کی حیثیت سے شریک ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ’’ کسوٹی‘‘ نے مُلک گیر شُہرت حاصل کرلی بلکہ دُنیا بھر میں اس پروگرام کے چرچے ہوئے۔اسی دوران آپ بی سی سی آئی بینک کی طرف سے لندن کے’’ اُردو مرکز ‘‘ پہنچے اور وہاں اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دیں۔بعد ازاں وطن واپس آکر ’’ مقتدرہ قومی زبان‘‘ کے چیرمین ہوگئے۔تاحال اسی ادارے سے منسلک ہیں۔
افتخار عارف کی شاعری بولتے انسان کی شاعری ہے جس کی تمام حسیات کام کرتی ہیں اور جو زندگی کو بڑے دھیمے انداز سے لیتا ہے۔زندگی کے بارے میں بڑی دانشوری کے ساتھ سوچتا ہے اور اس دنیا کی روایات کو پرکھتا ہے۔آپ کے معروف شعری مجموعوں میں :
بارہواں کھلاڑی ۔ مہرِ دو نیم ۔ جہانِ معلوم ۔ حرفِ باریاب ۔ شہرِ علم کے دروازے پر ۔ کتاب دل اور دنیا ۔ مکالمہ ۔ درکلوندہ ۔ وغیرہ زیادہ مشہور ہیں ۔اس کے علاوہ افتخار عارف کی نظموں کا سندھی زبان میں بھی ترجمہ کیا گیا ہے جس کا عنوان ہے : ’’ افتخار عارف جی نظمن جو سندھی ترجمو ‘‘
آپ کی ایک انگریزی تصنیف بھی ’’Write In The Season Of Fear‘‘ بھی شایع ہوچکی ہے۔افتخار عارف کو سرکاری اعزازات سے بھی نواز ا جا چکا ہے ۔
نمونہ کلام :
دیارِ نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو
میں اُس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے
میرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو
وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھیرے
گلی گلی میری رسوائیوں کا ساتھی ہو
میں اس کے ہاتھ نہ آؤں وہ میرا ہو کر رہے
میں گر پڑوں تو میری پستیوں کا ساتھی ہو
وہ خواب دیکھے تو دیکھے میرے حوالے سے
میرے خیا ل کے سب منظروں کا ساتھی ہو