Word of the dayآج کا لفظ

Martello

کنج انزدا

MEANS: ملک کی حفاظت کے لئے ساحلی قلعہ بندی

معنی: گوشہِ تنہائی

Listen to Urdu Pronunciationالفاظ کے تلفظ سنئیے

Couplet of the day

آج کا شعر

Click on the below image to open up the complete image gallery. مکمل گیلری کو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی تصویر پر کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

علامہ اقبال

Description

تفصیل

ڈاکٹر ، سر ، حکیم الامت ، شاعر مشرق محمد اقبال ؒ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ ، محلہ چوڑی گراں میں پیدا ہوئے اور 21 اپریل 1938 ء کو لاہور میں انتقال کیا۔آپ کی اصنافِ ادب میں شاعری(غزل،نظم) اور نثر دونوں شامل ہیں۔آپ بیسویں صدی کے معروف ترین شاعر ،مصنف ،سیاست داں ، قانون داں ، مسلم صوفی اور تحریکِ پاکستان کی اہم ترین شخصیت تھے۔آپ کی وجہ شُہرت آپ کی اُردو اور فارسی زبانوں کی شاعری ہے۔آپ کے والد کا نام شیخ نور محمد اور والدہ امام بی بی تھیں۔والدین ہی نے آپ کا نام محمد اقبال رکھا۔آپ کے اساتذہ کرام کی فہرست میں ایسی نابغہ روزگار شخصیات شامل ہیں کہ جنہوں نے بلا شبہ اقبال کو اقبالؔ بنایا۔آپ کے اساتذہ کرام میں مولوی میر حسن ، نواب مرزا خان داغ دہلوی،پروفیسر براؤن اور پروفیسر آرنلڈ جیسی معروف ہستیوں کے اسمائے گرامی نمایاں ہیں۔واقعہ مشہور ہے کہ اقبال مدرسے تاخیر سے پہنچے تو مولوی میر حسن نے تاخیر کا سبب دریافت کیا ،اقبال نے فرمایا:’’ حضرت ، اقبال سیر ہی سے آتا ہے!‘‘یہ جواب سُن کر مولوی میر حسن جیسی نامور شخصیت بھی اقبال کے مستقبل سے واقف ہوگئی تھی کہ: ’’آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ‘‘ گورنمنٹ کالج ، لاہور میں پروفیسر آرنلڈ کی نظر اقبال جیسے ہیرے پر پڑی اور انہوں نے ٹھان لیا کہ اس نوجوان سے مسلم قوم کی ترقی و خوشحالی کا کام لینا ہے ۔یہی وجہ تھی کہ اقبال کے شاعری کے تین ادوار کردیے گئے۔پہلے دور میں جو شاعری شامل ہے اُس کی اصلاح ہندُستان کے معروف شاعر نواب مرز خاں داغ ؔ دہلوی نے بذریعہ ڈاک کی ۔اس حصہ میں کچھ غزلیں اور نظمیں شامل ہیں۔اس دور میں اقبال نے بچوں کے لیے بھی غیر ملکی ادب سے کچھ انتخاب پیش کیا ،مثلاً ایمرسن کی کچھ نظموں کا اُردو میں ترجمہ کیا ،جن میں ’’پہاڑ اور گلہری‘‘ ۔ ’’گائے اور بکری‘‘ وغیرہ اہم نظمیں شامل ہیں۔’’بچے کی دعا‘‘ ادبِ اطفال میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے: ’’ لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری !‘‘ یہ نظم تمام پاکستانی بچوں کے دلوں کی آواز ہے۔اس نظم میں بچوں کو نہ دولت سے محبت کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اور نہ ہتھیاروں سے لیس ہوکر تخریب کاری کرنے کی ۔بلکہ اس نظم کا پیغام ایک آفاقی پیغام ہے۔’’جاوید کی بلّی‘‘ ایک اور مشہور نظم ہے۔یہ تمام نظمیں اقبالؔ کے پہلے مجموعہ کلام ’’ بانگِ درا ‘‘ میں شامل ہیں۔بانگِ درا کا پہلا اِڈیشن ۱۹۲۵ء میں شایع ہوا تھا۔بانگِ درا مٰں علامہ اقبال کی شاعری کے تین ادوار کردیے گئے ہیں۔ ّ(۱) ابتدا سے ۱۹۰۵ء یعنی داغ دہلوی کی وفات تک (۲) ۱۹۰۵ء سے سفرِ انگلستان تک (۳) سفرِ انگلستان سے ۱۹۳۸ء وفاتِ اقبالؔ تک بانگِ درا کے پہلے اِڈیشن پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلا حصہ جو اقبال کی ابتدائی غزلیات پر مبنی ہے،اس میں ایک نوجوان اقبال موجود ہے۔چناں چہ پہلے حصے کی غزلیات میں ایسے اشاعر بھی شامل ہیں: ؂ تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی بڑا بے ادب ہوں ، سزا چاہتا ہوں ؂ اقبال بھی اقبالؔ سے آگاہ نھیں ہے کچھ اس میں تمسخر نھیں ، واللہ نھیں ہے ؂ اقبالؔ تیرے عشق نے سب بَل دیے نکال مُدّت سے آرزو تھی کہ سیدھا کرے کوئی ؂ بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا تیری آنکھ مستی میں ہُشیار کیا تھی ؂ بار بار دیکھ اسے ، دیوانہ وار دیکھ ہے یہ دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ و دیگر۔۔۔اس دور کی غزلوں میں ایک جوان تنومند ،سیالکوٹیا اقبال عرف ’’ بالا‘‘نظر آتا ہے۔ان خوبصورت ترین غزلیہ اشعار میں ’’قومی شاعری‘‘ کے سنگھاسن پر بیٹھا وہ مورتی نُما اقبالؔ نھیں ہے جو ہمارا قومی ہیرو بھی ہے بلکہ ا س شاعری کااقبالؔ وہ اقبال ہے جو ایک تنومند شاعر بھی ہے اور ایک درد مند دل کا مالک بھی ہے۔اس دور کے بعد اقبال کی شاعری میں’’فکر‘‘ کا ایک ٹھیراؤ پایا جاتا ہے اور فلسفہ موج زن ہے ۔یہی اقبال کا وہ دو ہے جب انہوں نے مسلم قوم کے درد کا علاج دریافت کیا۔ ؂ کبھی اے نوجواں مُسلم تدبر بھی کیا تُو نے وہ کیا گردوں تھا ، ہے جس کا تُواِک ٹوٹا ہوا تارا ؂ تھے تو آبأ وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو؟ ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو ؂ مسجد تو بنادی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے من اپنا پرانا پاپی ہے ، برسوں میں نمازی بن نہ سکا ؂ ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن گُفتار میں کردار میں اللہ کی بُرہان قہاری و غفاری و قُدّوسی و جبروت یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلماں جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان ہمسایہ جبریلِ امیں بندۂ خاکی ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشاں وغیرہ فکرِ اقبال ؔ میں نئی اُٹھان ہیں۔ ۱۹۰۵ء میں اقبال نے انگلستان کا دورہ کیا تھا اور ’’کیمبرج یونیورسٹی‘‘ میں داخلہ لیا تھا ۔اس کے بعد آپ ’’ میونخ یونیورسٹی‘‘ چلے گئے جہاں سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔گورنمنٹ کالج ، لاہور سے ایم اے کا امتحان پاس کیا اور ایم اے کرنے کے بعد ’’ اورینٹل کالج ‘‘ لاہور میں تدریس کے فرائض سر انجام دیے لیکن آپ نے بیرسٹری کو مستقل شعبہ کے طور پر اپنایا اور وکالت کے ساتھ ساتھ شاعری بھی کرتے رہے۔1922 ء میں آپ کو حکومت کی طرف سے ’’’ سر ’’ کا خطاب دیا گیا ۔اقبال ’’انجمنِ حیاتِ اسلام ‘‘ کے اعزازی صدر بھی رہے ۔1926ء میں آپ ’’ پنجاب لِجیسلیٹواسمبلی‘‘ کے ممبر چُنے گئے ۔اس وقت آپ آزدئ وطن کے حقدار تھے اور باقاعدہ سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتے تھے۔اسی دوران آپ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔آپ کا الہ آباد کا مشہور تاریخی خطبہ تحریکِ پاکستان میں نمایاں اہمیت کا حامل ہے،جس میں آپ نے سرسید احمد خان کے دو قومی نظریہ کی توثیق کردی تھی کہ مسلمان جنوبی ایشیأ میں موجود دوسری قوموں سے قطعی مختلف ہیں،اُن کی ثقافت مختلف ہے چنانچہ ان کو یکجا کرکے ایک مسلم ریاست کا پلیٹ فارم مُہیا کیا جائے۔1931ء میں آپ نے ’’ گول میز کانفرنس‘‘ میں شرکت کرکے مسلمانوں کی نمائندگی کی۔آپ کی تعلیمات اور قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ کی اَن تھک کوششوں سے پاکستان تو 14 اگست 1947ء کو آزاد ہو گیا لیکن اقبالؔ ’’ تصورِ پاکستان ‘‘ پیش کرکے 21 اپریل 1938ء کے روز اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے تھے۔اقبالؔ ایک حساس دل کے مالک تھے ، آپ کی شاعری ایک درد مند دل کی پُکار ہے۔آپ کی شاعری کو انڈونیشیا نے اپنی زبان میں ترجمہ کراکے آزادی حاصل کی۔اس کے علاوہ دُنیا کی کئی زبانوں میں آپ کی شاعری کے تراجم ہوچکے ہیں اور ’’اقبالیات‘‘ باقاعدہ ایک شُعبۂ تعلیم وتدریس بن چکا ہے۔ملک میں ’’علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی‘‘ نہایت فعال ہے جس کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں واقع ہے۔ تصانیفِ اقبالؔ : علم الاقتصاد ۱۹۰۳ء(ایک طرح کی درسی کتاب جو اردو میں تھی) ۔ اسرار خودی (فارسی) ۱۹۱۵ء ۔ رموزِ بے خودی(فارسی) ۱۹۱۷ ء ۔ پیامِ مشرق ( فارسی) ۱۹۲۳ء ۔ زبورِ عجم (فارسی) ۱۹۲۷ء ۔ جاوید نامہ (فارسی) ۱۹۳۲ء ۔ پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق ( فارسی) ۱۹۳۶ء ۔ ارمغانِ حجاز ( فارسی ۔ اُردو) ۱۹۳۸ء اُردو شاعری : بانگِ درا ( ۱۹۲۴ء ) ۔ بالِ جبریل ( ۱۹۳۵ء ) ۔ ضربِ کلیم ( ۱۹۳۶ء) انگریزی تصانیف : فارس میں ماورا الطبیعات کا ارتقاء ۱۹۰۸ ء اسلام میں مذہبی افکار کی تعمیرِ نو ۱۹۳۰ء اقبالؔ کی نظموں کا فنی تجزیہ : شکوہ ۔ جوابِ شکوہ ۔ خضرِ راہ ۔ والدہ مرحومہ کی یاد میں علامہ اقبال کی شاعری میں پیش کردہ تصورات میں ’’ خودی‘‘ ، ’’مردِ مومن ‘‘ ، ’’عقل و عشق ‘‘ ، ’’وطنیت و قومیت ‘‘ ، ’’تصورِتعلیم‘‘، ’’تصورِ عورت‘‘ ، مغربی تہذیب ‘‘ ، ’’ تصورِ ابلیس ‘‘ اور ’’ عشقِ رسول ؐ ‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔ گیان چند نے اقبالؔ کے تمام کلام کو یکجا کرکے شایع کروایا اس کے علاوہ ’’ کلیاتِ باقیاتِ اقبالؔ ‘‘ کے عنوان سے بھی اقبال کا کلام یکجا کیا گیا ہے۔ڈاکٹر صابر کلوروی نے بھی اقبالؔ کے کلام کو یکجا کرکے شایع کیا ہے ۔ اقبالؔ کی کئی نظموں نے عالمگیر شُہرت حاصل کرلی۔اُن کے اشعار زبانِ زدِ عام ہیں ۔ ذیل میں اقبالؔ کی ایک نظم ’’ فاطمہ بنتِ عبداللہ ‘‘ کا ایک بند تحریر کررہا ہوں جو اقبالؔ نے ۱۹۱۲ء میں کہی تھی۔ فاطمہ تُو آبروئے اُمّت مرحوم ہے ذرہ ذرہ تیری مُشتِ خاک کا معصوم ہے یہ سعادت ، حور صحرائی تیری قسمت میں تھی غازیانِ دیں کی سقّائی تیری قسمت میں تھی یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سِپر ہے جسارت آفریں شوقِ شہادت کس قدر یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی ایسی چنگاری بھی یارب، اپنی خاکستر میں تھی اپنے صحرا میں بہت آہو ابھی پوشیدہ ہیں بجلیاں برسے ہوئے بادل میں بھی خوابیدہ ہیں

Shair Collection

اشعار کا مجموعہ

Compilation of top 20 hand-picked Urdu shayari on the most sought-after subjects and poets

انتہائی مطلوب مضامین اور شاعروں پر مشتمل 20 ہاتھ سے منتخب اردو شاعری کی تالیف

SEE FULL COLLECTIONمکمل کلیکشن دیکھیں
Pinterest Share