• پاس جب تک وہ رہے‘ درد تھما رہتا ہے
    پھیلتا جاتا ہے پھر آنکھ کے کاجل کی طرح
    پروین شاکر
  • پلکوں کو اس کی‘ اپنے دوپٹے سے پونچھ دوں
    کل کے سفر میں آج کی گردِ سفر نہ جائے
    پروین شاکر
  • پھول سو بھی جائیں تو روشنی نہیں بجھتی
    سبز دُوب کی آنکھیں جاگتی ہیں رستوں پر
    پروین شاکر
  • تو میرا کچھ نہیں لگتا ہے مگر جانِ حیات
    جانے کیوں تیرے لئے دل کو دھڑکتا دیکھوں
    پروین شاکر
  • تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں
    میرے ہاتھوں کی لکیروں سے الجھ جاتی ہیں
    پروین شاکر
  • رقص جن کا ہمیں ساحل سے بہا لایا تھا
    وہ بھنور آنکھ تک آئے تو کنارے نکلے
    پروین شاکر
First Previous
1 2
Next Last
Page 1 of 2

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter