• مجھے حیراں نگاہی آخر اس عالم میں لے آئی
    جہاں ان کی نظر میری نگہبان ہوتی جاتی ہے
    ناصر کاظمی
  • خلوتوں میں روئے گی چھپ چھپ کے لیلائے غزل
    اس بیاباں میں نہ اب آئے گا دیوانہ کوئی
    ناصر کاظمی
  • رت بدلی‘ آندھی چلی‘ سوکھن لاگے پات
    رنگ برنگی ڈالیان‘ روویں مل مل ہات
    ناصر کاظمی
  • جم راج، دیو دیویاں ، جنّات، آدمی
    بئٹھے تھے زیب تن کئے ملبوسِ دَرشَتی
    ناصر کاظمی
  • منظر دھواں دھواں ہے طبیعت اداس ہے
    اک کم سخن نظر ، دمِ رخصت اداس ہے
    ناصر کاظمی
  • کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دور آسماں بھی
    جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے جو دن کڑا تھا گزر گیا وہ
    ناصر کاظمی
First Previous
1 2 3 4
Next Last
Page 1 of 4

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter