• ظالم میں کہہ رہا تھا تو اس خو سے درگزر
    سودا کا قتل ہے یہ چھپایا نہ جائے گا
    سودا
  • گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
    اے خانہ بر اندازِ چمن‘ کچھ تو اِدھر بھی
    سودا
  • بھلا گل تو ہنستا ہے ہماری بے ثباتی پر
    بتا روتی ہے کس کی ہستی‘ موہوم پر شبنم
    سودا
  • یہ تو نہیں کہتا کہ سچ مچ کرو انصاف
    جھوٹی بھی تسلی ہو تو جیتا ہی رہوں میں
    سودا
  • نکل وطن سے ہے غربت میں زور کیفیت
    کہ آن بحت ہے جب تک ہے تاک میں صہبا
    سودا
  • ہوئے ہیں غرق ہم جس طرح آب چشم میں اپنے
    بھلا اے ابریوں دریا میں تو تو ڈوب دیکھیں ہم
    سودا
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 99

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter