• پھوٹیں گے اب نہ ہونٹ کی ڈالی پہ کیا گلاب!
    آئے گی اب نہ لوٹ کے آنکھوں میں کیا، وہ نیند!
    امجداسلام امجد
  • دپٹہ سہاوے جیو سہماے
    ہونٹ سلونیں من لبھائے
    نو سرہار
  • طلب جو ہو بھی تو ہم ہونٹ بند رکھتے ہیں
    کہ ہم انا کا عَلم سربلند رکھتے ہیں
    جمشید ‌مسرور
  • چونا تھا لگا ہونٹ میں نو ڈھولیاں ہاریں
    پوچھا تو کہا نوٹکے ڈولی ہے گھر اپنا
    جان صاحب
  • برہاڈسن کے درد تھیں بیا کل پڑے نت زرد ہو
    بے کس ہونٹ جابیل تے جیوں پات پیلا جھڑپڑے
    شاہی
  • پان سے ہونٹ بھی خوں ریز کئے بیٹھے ہیں
    آج تو مجھ پہ چھری تیز کئے بیٹھے ہیں
    واسوخت بحر
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter