• ہونٹ پپڑاے جو اس کی گرمئی صحبت سے رات
    جھاڑ میں شمعیں پگھل کر موم روغن ہو گئیں
    امانت
  • تج نین تھے سک چین سب پائے ہیں آدم اور ملک
    امرت پنی سیتی سدا تج ہونٹ برساویں بعث
    قلی قطب شاہ
  • دانتوں کے تلے ہونٹ نہ غصے میں دباؤ
    ہو خونِ مسیحا تو نہ بہرے کی کنی سے
    الماس درخشاں
  • سیل کی رہگزر ہوئے، ہونٹ نہ پھر بھی تر ہوئے
    کیسی عجیب پیاس تھی، کیسے عجب سحاب تھے!
    امجد اسلام امجد
  • پھوٹیں گے اب نہ ہونٹ کی ڈالی پہ کیا گلاب!
    آئے گی اب نہ لوٹ کے آنکھوں میں کیا، وہ نیند!
    امجداسلام امجد
  • وہ عجیب پھول سے لفظ تھے، ترے ہونٹ جن سے مہک اٹھے
    مرے دشتِ خواب میں دور تک، کوئی باغ جیے لگا گئے
    امجد اسلام امجد
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter