• سیل کی رہگزر ہوئے، ہونٹ نہ پھر بھی تر ہوئے
    کیسی عجیب پیاس تھی، کیسے عجب سحاب تھے!
    امجد اسلام امجد
  • خلط کی خوبی، ہونٹ توڑ لیا
    جسے چاہا اسے بھنبھوڑ لیا
    انشا
  • دہن کو دیکھ ترے ہونٹ چاٹتے رہ گئے
    پھرا نہ قند سے منہ چاشنی چشیدوں کا
    انتخاب
  • ہونٹ ہلنے سے بھی پہلے جو یہ اڑجاتا ہے
    جی میں پھرتا ہے مگر لب پہ نہیں آتا ہے
    پیارے صاحب رشید ،
  • درد کی رہگزار میں، چلتے تو کس خمار میں
    چشم کہ بے نگاہ تھی، ہونٹ کہ بے خطاب تھے
    امجد اسلام امجد
  • چونا تھا لگا ہونٹ میں نو ڈھولیاں ہاریں
    پوچھا تو کہا نوٹکے ڈولی ہے گھر اپنا
    جان صاحب
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter