• چونا تھا لگا ہونٹ میں نو ڈھولیاں ہاریں
    پوچھا تو کہا نوٹکے ڈولی ہے گھر اپنا
    جان صاحب
  • وہ عجیب پھول سے لفظ تھے، ترے ہونٹ جن سے مہک اٹھے
    مرے دشتِ خواب میں دور تک، کوئی باغ جیے لگا گئے
    امجد اسلام امجد
  • ہماری شاخک کا نوخیز پتا
    ہوا کے ہونٹ اکثر چومتا ہے
    بشیر بدر
  • ترے ہونٹ خرما نین تج بدام
    ترے تل اہیں دانے ہور زلف دام
    قلی قطب شاہ
  • کیا علم انھوں نے سیکھ لیے جو بن لکھے کو بانچے ہیں
    اور بات نہیں منھ سے نکلے بن ہونٹ ہلائے جانچے ہیں
    نظیر
  • ہونٹ پپڑاے جو اس کی گرمئی صحبت سے رات
    جھاڑ میں شمعیں پگھل کر موم روغن ہو گئیں
    امانت
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter