• دہن کو دیکھ ترے ہونٹ چاٹتے رہ گئے
    پھرا نہ قند سے منہ چاشنی چشیدوں کا
    انتخاب
  • برہا ڈسن کے درد تھیں بیاکل پڑے نت زرد ہو
    بے کس ہونٹ جا بیل تے جیوں پات بپیلا جھڑ پڑے
    شاہی
  • ترے ہونٹ خرما‘ نین تج بدام
    ترے تل اہیں دانے ہور زلف دام
    قلی قطب شاہ
  • مرے ہم سفر‘ تجھے کیا خبر!
    یہ جو وقت ہے کسی دُھوپ چھاؤں کے کھیل سا
    اِسے دیکھتے‘ اِسے جھیلتے
    مِری آنکھ گرد سے اَٹ گئی
    مِرے خواب ریت میں کھوگئے
    مِرے ہاتھ برف سے ہوگئے
    مِرے بے خبر‘ ترے نام پر
    وہ جو پُھول کھلتے تھے ہونٹ پر
    وہ جو دیپ جلتے تھے بام پر‘
    وہ نہیں رہے
    وہ نہیں رہے کہ جو ایک ربط تھا درمیاں وہ بکھر گیا
    وہ ہَوا چلی
    کسی شام ایسی ہَوا چلی
    کہ جو برگ تھے سرِ شاخِ جاں‘ وہ گرادیئے
    وہ جو حرف درج تھے ریت پر‘ وہ اُڑا دیئے
    وہ جو راستوں کا یقین تھے
    وہ جو منزلوں کے امین تھے
    وہ نشانِ پا بھی مِٹا دیئے!
    مرے ہم سفر‘ ہے وہی سفر
    مگر ایک موڑ کے فرق سے
    ترے ہاتھ سے مرے ہاتھ تک
    وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ
    کئی موسموں میں بدل گیا
    اُسے ناپتے‘ اُسے کاٹتے
    مرا سارا وقت نکل گیا
    تو مِرے سفر کا شریک ہے
    میں ترے سفر کا شریک ہوں
    پہ جو درمیاں سے نکل گیا
    اُسی فاصلے کے شمار میں
    اُسی بے یقیں سے غبار میں
    اُسی رہگزر کے حصار میں
    ترا راستہ کوئی اور ہے
    مرا راستہ کوئی اور ہے
    امجد اسلام امجد
  • ہونٹ پپڑاے جو اس کی گرمئی صحبت سے رات
    جھاڑ میں شمعیں پگھل کر موم روغن ہو گئیں
    امانت
  • آزردہ ہونٹ تک نہ ہلے اس کے رو برو
    مانا کہ آپ سا کوئی جادو بیاں نہیں
    آزردہ
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter