• مرے ہم سفر‘ تجھے کیا خبر!
    یہ جو وقت ہے کسی دُھوپ چھاؤں کے کھیل سا
    اِسے دیکھتے‘ اِسے جھیلتے
    مِری آنکھ گرد سے اَٹ گئی
    مِرے خواب ریت میں کھوگئے
    مِرے ہاتھ برف سے ہوگئے
    مِرے بے خبر‘ ترے نام پر
    وہ جو پُھول کھلتے تھے ہونٹ پر
    وہ جو دیپ جلتے تھے بام پر‘
    وہ نہیں رہے
    وہ نہیں رہے کہ جو ایک ربط تھا درمیاں وہ بکھر گیا
    وہ ہَوا چلی
    کسی شام ایسی ہَوا چلی
    کہ جو برگ تھے سرِ شاخِ جاں‘ وہ گرادیئے
    وہ جو حرف درج تھے ریت پر‘ وہ اُڑا دیئے
    وہ جو راستوں کا یقین تھے
    وہ جو منزلوں کے امین تھے
    وہ نشانِ پا بھی مِٹا دیئے!
    مرے ہم سفر‘ ہے وہی سفر
    مگر ایک موڑ کے فرق سے
    ترے ہاتھ سے مرے ہاتھ تک
    وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ
    کئی موسموں میں بدل گیا
    اُسے ناپتے‘ اُسے کاٹتے
    مرا سارا وقت نکل گیا
    تو مِرے سفر کا شریک ہے
    میں ترے سفر کا شریک ہوں
    پہ جو درمیاں سے نکل گیا
    اُسی فاصلے کے شمار میں
    اُسی بے یقیں سے غبار میں
    اُسی رہگزر کے حصار میں
    ترا راستہ کوئی اور ہے
    مرا راستہ کوئی اور ہے
    امجد اسلام امجد
  • پُھوٹیں گے اَب نہ ہونٹ کی ڈالی پہ کیا گلاب!
    آئے گی اب نہ لَوٹ کے آنکھوں میں کیا‘ وہ نیند!
    امجد اسلام امجد
  • ہم نے ساقی کے کہیں ہونٹ جو ٹک چوس لیے
    کوش ہو سب اہل خرابات کے پا بوس کیسے
    انشا
  • چونا تھا لگا ہونٹ میں نو ڈھولیاں ہاریں
    پوچھا تو کہا نوٹکے ڈولی ہے گھر اپنا
    جان صاحب
  • دہن کو دیکھ ترے ہونٹ چاٹتے رہ گئے
    پھرا نہ قند سے منہ چاشنی چشیدوں کا
    انتخاب
  • کس کے آنسو چھپے ہیں پھولوں میں
    چومتا ہوں تو ہونٹ جلتے ہیں
    بشیر بدر
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter