• چاہت کی گرفتار بٹیریں، لوے، تیتر
    کبکوں کے تدرووں کے بھی چاہت میں بندھے پر
    نظیر
  • سُنی سنائی بات نہیں‘ یہ اپنے اوپر بیتی ہے
    پھول نکلتے ہیں شعلوں سے چاہت آگ لگائے تو
    عندلیب شادانی
  • غرق دریائے خجالت ہوگئے چاہت سے ہم
    آبرو جتنی بہم پہنچائی تھی پانی ہوگئی
    رشک
  • کھنجن میں گلنگوں میں بھی چاہت کی مچی جنگ
    دیکھا جو طیوروں نے اسے حسن میں خوش رنگ
    نظیر اکبر آبادی
  • دانش و عقل و خرد چل دیے سب چاہت میں
    چھٹی پاکر نہ کوئی طفل دبستاں ٹھہرا
    الماس درخشاں
  • تم سے راسخ اٹھ سکیں گے صدمے چاہت کے کہاں
    ڈوبتا ہے جی ہمارا نام سن کر چاہ کا
    راسخ
First Previous
1 2 3 4
Next Last
Page 1 of 4

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter