• لفظ تو سب کے اک جیسے ہیں، کیسے بات کھلے؟
    دنیا داری کتنی ہے اور چاہت کتنی ہے!
    امجد اسلام امجد
  • چاہت بتوں کی ہے کہ خدائی کا روگ ہے
    آزاد دیر عشق کے آزار سے ہوا
    رشک
  • کسِ نے چاہت میں نہیں دکھ پائے
    پیار کرکے کِسے ایدا نہ ہوئی
    الماس ِ درخشاں
  • غرق دریائے خجالت ہوگئے چاہت سے ہم
    آبرو جتنی بہم پہنچائی تھی پانی ہوگئی
    رشک
  • ہر جنم میں اسی کی چاہت تھے
    ہم کسی اور کی امانت تھے
    بشیر بدر
  • کھنجن میں گلنگوں میں بھی چاہت کی مچی جنگ
    دیکھا جو طیوروں نے اسے حسن میں خوش رنگ
    نظیر اکبر آبادی
First Previous
1 2 3 4
Next Last
Page 1 of 4

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter