• نام اُلفت کا نہ لوں گا جب تلک ہے دم میں دم
    تو نے چاہت کا مزا اے فتنہ گر دکھلادیا
    مومن
  • ہر جنم میں اسی کی چاہت تھے
    ہم کسی اور کی امانت تھے
    بشیر بدر
  • چاہت کی گرفتار بٹیریں، لوے، تیتر
    کبکوں کے تدرووں کے بھی چاہت میں بندھے پر
    نظیر
  • جو فکر وصل ہوتی ہے چاہت میں جا بہ جا
    اُس بیقرار نے بھی کیا سب وہ ٹھک ٹھکا
    نظیر
  • چاہت بتوں کی ہے کہ خدائی کا روگ ہے
    آزاد دیر عشق کے آزار سے ہوا
    رشک
  • کچھ ایسی بے سکونی ہے وفا کی سرزمینوں میں
    کہ جو اہلِ محبت ک سدا بے چین رکھتی ہے
    کہ جیسے پھول میں خوشبو‘ کہ جیسے ہاتھ میں پارا
    کہ جیسے شام کا تارا
    محبت کرنے والوں کی سحر راتوں میں رہتی ہے
    گُماں کے شاخچوں میں آشیاں بنتا ہے اُلفت کا!
    یہ عینِ وصل میں بھی ہجر کے خدشوں میں رہتی ہے
    محبت کے مُسافر زندگی جب کاٹ چکتے ہیں
    تھکن کی کرچیاں چنتے ‘ وفا کی اجرکیں پہنے
    سمے کی رہگزر کی آخری سرحد پہ رکتے ہیں
    تو کوئی ڈوبتی سانسوں کی ڈوری تھام کر
    دھیرے سے کہتا ہے‘
    ’’یہ سچ ہے نا…!
    ہماری زندگی اِک دوسرے کے نام لکھی تھی!
    دُھندلکا سا جو آنکھوں کے قریب و دُور پھیلا ہے
    اِسی کا نام چاہت ہے!
    تمہیں مجھ سے محبت تھی
    تمہیں مجھ سے محبت ہے!!‘‘
    محبت کی طبیعت میں
    یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے!
    امجد اسلام امجد
First Previous
1 2 3 4
Next Last
Page 1 of 4

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter