• یہ طرز و ادا ہے تو انسے نہ وفا ہوگی
    خوباں کے خوش آیندہ اسلوب نظر آئے
    میر حسن
  • جب سے اس بے وفا نے بال رکھے
    صید بندو نے جال ڈال رکھے
    میر
  • توبہ۔ ہوکے بد گماں میں نے کی خطا ضرور
    بھول چوک ہو تو ہو ہیں ’’وہ‘‘ با وفا ضرور
    عالم خیال
  • پوچھیں ہیں وجہ گریۂ خونیں جو مجھ سے لوگ
    کیا دیکھتے نہیں ہیں سب ا‌س بے وفا کا رنگ
    میر تقی میر
  • بڑے جو ہیں وہ بے ثمر جو خرد ہیں وہ خیرہ سر
    عطا نہیں کرم نہیں ادب نہیں وفا نہےں
    اکبر
  • ضد کی ہے اور بات مگر خُو بُری نہیں
    بھولے سے اُس نے سینکڑوں وعدے وفا کئے
    غالب
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 43

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter