• کوئی بتلائے یہ تکمیلِ وفا ہے کہ نہیں
    اشک بن کر کسی مژگاں پہ نمایاں ہونا
    عبید ‌اللہ ‌علیم
  • ہم پر جفا سے ترک وفا کا گماں نہیں
    اک چھیڑ ہے وگرنہ مراد امتحاں نہیں
    غالب
  • ہم اپنے وعدے کے دن بھر چلے اب اے ظالم
    تو گو وفا کرے وعدےکو اپنے یا نہ کرے
    قائم
  • کیونکر کہیں کہ شہر وفا میں جنوں نہیں
    اس خصم جاں کے سارے دوانے ہیں یہاں کے لوگ
    میر تقی میر
  • صادق جو تھے وفا میں تو کامل تھے عشق میں
    دونوں کے سر روانہ ہوئے ہیں دمشق میں
    انیس
  • وفا کے باب میں الزامِ عاشقی نہ لیا
    کہ تیری بات کی اور تیرا نام بھی نہ لیا
    احمد ‌فراز
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 43

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter