• مرجائے گا باتوں میں کوئی غمزدہ یوں ہی
    ہر لحظہ نہ ہو ممتحن اربابِ وفا کا
    میر تقی میر
  • مارا ہے انتظار نے مجکوں ولے بنور
    اس بے وفا کوں دل کی حقیقت نئیں لکھی
    ولی
  • کس دل سے اب کسی سے امیدِ وفا کریں
    جب تم بھی مثلِ گردشِ دوراں بدل گئے
    نامعلوم
  • وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
    تو پھر ااے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو
    غالب
  • اس کے یوں ترکِ محبت کا سبب ہوگا کوئی
    جی نہیں یہ مانتا‘ وہ بے وفا پہلے سے تھا
    پروین ‌شاکر
  • جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم
    سو اس عہد کو اب وفا کر چلے!
    میر تقی میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 43

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter