• مجھی پر شاذ پڑتی ہیں نگاہیں نكتہ سنجوں كی
    وطن خوش نام ہی جس وقت تك باقی ہی دم میرا
    شاد عظیم آبادی
  • وطن اور اس کی روایات پہ جس سے حرف آئے
    باعث ننگ ہے وہ شیوہ فریاد مجھے
    ظفر علی خاں
  • مطلب نہیں جہاں کے سیاہ و سفید سے
    یکساں ہے شام غربت و صبح وطن مجھے
    الماس درخشاں
  • مثل عینک مجھے غربت ہے وطن سے بہتر
    پائی آنکھوں پہ جگہ میں اگر گھر نہ ہوا
    شعور( مہذب اللغات)
  • وفا دامن کش پیرایہ ہستی ہے اے غالب
    کہ پھر نزہت گہ غربت سے تاحد وطن لائی
    غالب
  • ہے اپنے وطن کا خیر اندیش
    یہ مخلص رازداں وفا کیش
    شاد عظیم آبادی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 11

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter