• صحرا میں جو بلبل ہوکہے کیا وہ چمن کی
    آوارہ غبت کو خبر کیا ہے وطن کی
    اکبر آبادی
  • آہ جس روز سے چھوٹا ہے وطن غنچے کا
    نہ کھلا دل کیے یہاں لاکھ جتن غنچے کا
    آغا جان دہلوی
  • لاگی ہے لگن تم سوں چھڑا کون سکے گا، ہے کس میں یہ قدرت
    اب مج کوں وطن اپنے لجا کون سکے گا، کر دل سوں رفاقت
    ولی
  • کیا رہوں غربت میں خوش، جب ہو حوادث کا یہ حال
    نامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا
    غالب
  • فراقِ خلد سے گندم ہے سینہ چاک اب تک
    الٰہی ہو نہ وطن سے کوئی غریب جدا
    نامعلوم
  • مجمع اہل وطن سے کوئی بیروں نہ کرے
    آسماں صحبت احباب دگر گوں نہ کرے
    بیخقد (ہادی علی)
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 11

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter