• لاگی ہے لگن تم سوں چھڑا کون سکے گا، ہے کس میں یہ قدرت
    اب مج کوں وطن اپنے لجا کون سکے گا، کر دل سوں رفاقت
    ولی
  • مثل عینک مجھے غربت ہے وطن سے بہتر
    پائی آنکھوں پہ جگہ میں اگر گھر نہ ہوا
    شعور( مہذب اللغات)
  • تنقید کا اصول ہے جمہوریت کی جان
    مسلک ہے ناقدان وطن کا مگر غلط
    رئیس امروہوی
  • بند کرلیں مری جانب سے کچھ ایسی آنکھیں
    کوئی خط بھی نہ کبھی اہل وطن کا آیا
    مصحفی
  • نکل وطن سے ہے غربت میں زور کیفیت
    کہ آن بحت ہے جب تک ہے تاک میں صہبا
    سودا
  • آبس کے رنج سے ہوے غیروں کے دل پہ بار
    غربت میں خاک اڑائی لگائی وطن میں آگ
    حبیب
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 11

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter