• یاس کی نیند سُلانا ہی اگر تھا منظور
    میری اُمید کی راتوں کو جگایا کیوں تھا
    اختر ‌شیرانی
  • بچے نیند میں غافل ہوگئے
    لوری سنتے سنتے سو گئے
    مطلع انوار
  • کچھ رَت جگے سے جاگتی آنکھوں میں رہ گئے
    زنجیر انتظار کا تھا سلسلہ ، وہ نیند
    امجداسلام امجد
  • مجکو وحشت کی یہ شادی ہے کہ نیند آتی نہیں
    رت جگا رہتا ہے شب کو خانہ زنجیر میں
    عاشق لکھنوی
  • بہت چاہا نہ ہرگز نیند آئی
    نہ دم بھر پیٹھ بستر سے لگائی
    شایاں
  • جب سے آنکھیں لگی ہیں ہماری نیند نہیں آتی ہے رات
    تکتے راہ رہے ہیں دن کو آنکھوں میں جاتی ہے رات
    میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter