• رات بھی‘ نیند بھی‘ کہانی بھی
    ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی
    فراق
  • اے گردشِ حیات کبھی تو دِکھا وہ نیند
    جِس میں شبِ وصال کا نشّہ ہو‘ لا وہ نیند
    امجد اسلام امجد
  • ادبی رات گئے ہوئے ایسے دھات
    رہے ماندے ہو نیند کیرے سنگات
    سیف الملوک و بدیع الجمال
  • خواب بند ایسی داستاں ستائے
    جس سے آنکھوں میں نیند شہ کی آئے
    ہشت گلزار
  • نہ تھی نیند شہ رات کو دھاک تے
    چھٹی آج اس بھشٹ ناپاک تے
    قطب مشتری
  • خُوشبو کی طرح مُجھ پہ جو بِکھری تمام شب
    میں اُس کی مَست آنکھ سے چُنتا رہا‘ وہ نیند
    امجد اسلام امجد
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter