• غم کے ٹہو کے کچھ ہوں بلا سے، آکے جگا تو جاتے ہیں
    ہم ہیں مگر وہ نیند کے ماتے جاگتے ہی سوجاتے ہیں
    فانی
  • لگا مردے کو میرے دیکھ کر وہ نا سمجھ کہنے
    جوانی کی ہے نیند اس کو کہ اس غفلت سے سوتا ہے
    میر
  • رات گئے جب چاند ستارے لُکن میٹی کھیلیں گے
    آدھی نیند کا سپنا بن کر میں بھی تم کو چُھولوں گا
    امجد اسلام امجد
  • شب غم ان کو نیند کیا آتی
    دھوم ڈالی تھی میرے نالوں نے
    شعاع مہر
  • نیند کے ماتے ٹھہر جا آنکھص کھلنے کی ہے دیر
    چشم حیراں میں سبک خواب گراں ہو جائے گا
    گنجینہ
  • دیکھا کچھ اِس طرح سے کسی خُوش نگاہ نے
    رُخصت ہُوا تو ساتھ ہی لیتا گیا وہ ‘ نیند
    امجد اسلام امجد
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter