• ہرنی سی ایک آنکھ کی مستی میں قید تھی
    اِک عُمر جس کی کھوج میں پھرتا رہا‘ وہ نیند
    امجد اسلام امجد
  • کس کس ادا سے ناک چڑھاتا ہے دیکھیو
    بیکل ہو ٹک جو نیند میں گردن اکڑ گئی
    انشا
  • نوجوانی کھو کے یوں پیری میں غفلت بڑھ گئی
    صبح کو آتی ہے جیسے نیند شب بیدار کو
    مصحفی
  • لَحد سے کب اٹھیں دیکھو مسافران عَدم
    سفر ہے دور کا‘ رستے میں نیند آئی ہے
    استاد ‌قمر ‌جلالوی
  • امجد ہماری آنکھ میں لَوٹی نہ پھر کبھی
    اُس بے وفا کے ساتھ گئی بے وفا‘ وہ نیند
    امجد اسلام امجد
  • خانقاہ میں اوّلا بھر نیند سوں سوتا اتھا
    بیٹ تس میں آ، یکایک مج جگایا عشق ٹوم
    دیوان شاہ سلطان ثانی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter