• سوتے وہ کیا کہ حسرت تیغ آزمائی تھی
    بچپن کی نیند نرکسی آنکھوں میں چھائی تھی
    مونس
  • نہ آوے نیند ہمسایاں کوں مرے چلانے تھے
    گلا یو آہ بھرنے تھے ہوا ہے چلچلا یارب
    غواصی
  • نیند کے ماتے ٹھہر جا آنکھص کھلنے کی ہے دیر
    چشم حیراں میں سبک خواب گراں ہو جائے گا
    گنجینہ
  • تصور میں کسی کے داغ نیند آتی نہیں مجھ کو
    عجب بیدار اپنا طالعِ فیروز رہتا ہے
    گلزارِ داغ
  • یہ کیسی نیند میں ڈوبے ہیں آدمی امجد
    کہ ہار تھک کے گھروں سے قیامتیں بھی گئیں
    امجد اسلام امجد
  • رات آئی تو چراغوں نے لویں اکسا دیں
    نیند ٹوٹی تو ستاروں نے لہو نذر کیا
    مصطفےٰ زیدی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter