• مجھ سا محنت کش محبت میں نہیں
    ہر زماں کرتا رہا ہوں جاں کنی
    میر
  • بن کے ناداں قسم ترکِ محبت کھاؤں
    تو ملے غیروں سےمیں دونون طرف سے جاؤں
    امانت
  • سوچے تھے کہ سودائے محبت میں ہے کچھ سود
    اب دیکھنے ہیں اس میں تو جی ہی کا ضرر ہے
    میر
  • دل سد پارہ کے بر پارہ پر نقش محبت ہے
    کہاں ہوسکتے ہیں ایسے نگیں حکاک سے پیدا
    آتش
  • پختہ ہوکر اپنی شاخ و بن سے ہوتا ہے جدا
    اے ثمر چشم محبت میں تری خامی بھل
    اکبر
  • لگ کے پھر دل نہ بجھے جس سے تنک لاگ لگے
    گر یہی کچھ ہے محبت تو اسے آگ لگے
    قائم
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 71

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter