• رحمی ماں کی جب تھا غلولا
    رزق کیونکر دبیا جب تھا ابولا
    ولایت نامہ
  • سوا لنگوٹ کے تن پر تھی بس رمائی بھبو
    یوں ہی وہ برف میں پالے میں رہتا ماں کا پوت
    جگ بیتی
  • اپنی ماں کے رات دن سینے لگے
    پانچوں بچے دودھ کچھ پینے لگے
    میر
  • وہ اک دُود ماں کا تھا روشن چراغ
    جلاتے تھے سارے اسی پر دماغ
    میر
  • بیٹا ہو سرخرو تو ہو ماں کینہ جو سفید
    دنیا کا ہوگیا ہے یہ کیسا لہو سفید
    شاد لکھنوی
  • سو پُر پیچ زلفاں سرنگ گال پر
    کنڈال گھال ناگاں بیٹھے ماں پر
    حسن شوقی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 14

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter