• دل جو تڑیا نہ ہوا ضبط فغاں رونے لگی
    دونوں ہاتھوں سے جگر تھام کے ماں رونے لگی
    عروج لکھنؤی
  • ڈیوڑھی سے جو دونوں دُر یکتا نکل آئے
    نزدیک تھا یہ ماں کا کلیجہ نکل آئے
    انیس
  • اناتمنا سوں کیا کوں ماں مجھے کہتے شرم آئی
    چھے مہینے کے بھتر پیروکوں پاڑی آس کاٹی نے
    ہاشمی
  • پروین کے ’’گِیتو‘‘ کے لیے ایک نظم

    ہاں مری جان‘ مِرے چاند سے خواہر زادے!
    بُجھ گئیں آج وہ آنکھیں کہ جہاں
    تیرے سپنوں کے سِوا کُچھ بھی نہ رکھا اُس نے‘
    کِتنے خوابوں سے‘ سرابوں سے الُجھ کر گُزری
    تب کہیں تجھ کو‘ ترے پیار کو پایا اُس نے
    تو وہ ‘‘خُوشبو‘‘تھا کہ جس کی خاطر
    اُس نے اِس باغ کی ہر چیز سے ’’انکار‘‘ کیا
    دشتِ ’’صد برگ‘‘ میں وہ خُود سے رہی محوِ کلام
    اپنے رنگوں سے تری راہ کو گلزار کیا
    اے مِری بہن کے ہر خواب کی منزل ’’گِیتو‘‘
    رونقِ ’’ماہِ تمام‘‘
    سوگیا آج وہ اِک ذہن بھی مٹی کے تلے
    جس کی آواز میں مہتاب سفر کرتے تھے
    شاعری جس کی اثاثہ تھی جواں جذبوں کا
    جس کی توصیف سبھی اہلِ ہُنر کرتے تھے

    ہاں مِری جان‘ مِرے چاند سے خواہر زادے
    وہ جِسے قبر کی مٹّی میں دبا آئے ہیں
    وہ تری ماں ہی نہ تھی
    پُورے اِک عہد کا اعزاز تھی وہ
    جِس کے لہجے سے مہکتا تھا یہ منظر سارا
    ایسی آواز تھی وہ
    کِس کو معلوم تھا ’’خوشبو‘‘ کی سَفر میں جس کو
    مسئلہ پُھول کا بے چین کیے رکھتا ہے
    اپنے دامن میں لیے
    کُو بَکُو پھیلتی اِک بات شناسائی کی
    اِس نمائش گہ ہستی سے گُزر جائے گی
    دیکھتے دیکھتے مٹی مین اُتر جائے گی
    ایسے چُپ چاپ بِکھر جائے گی
    امجد اسلام امجد
  • ہے نیند ماں اجڑی کے نت چونک پڑتی غم سیں ہوں
    تو سب کتیاں جھڑپن ہوا چونکے پہ ہور بچکاٹ پر
    ہاشمی
  • میداں سے جلد لیکے سکینہ کو گھر میں جا
    بے جرم کٹ گیا ترے ماں جائے گا گلا
    انیس
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 14

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter