• خیمے میں آئے روتے ہوئے اکبر حزیں
    چھاتی لگایا ماں نے پھوپی نے بلائیں لیں
    انیس
  • اپنی ماں کے رات دن سینے لگے
    پانچوں بچے دودھ کچھ پینے لگے
    میر
  • اصغر تو جا کے بھول گئے ماں کی یاد کو
    کیا تم بھی بھول جاؤگی اس نامراد کو
    انیس
  • وئی ماں برے یہ عورتاں کرتیاںبدی بیشک تو کوئی
    لاکھیاں سو جھوٹیاں‘ سوگنداں یک کے اوپر یک ڈھولتیاں
    ہاشمی
  • جنی ماں اپن مہر سوں آئے کر
    کہی شاہ توں یوں سواں کھائے کر
    قطب مشتری
  • مایوسِ وصل اُس کے کیا سادہ مُرد ماں ہیں
    گُزرے ہے میر اُن کو امیدوار ہر شب
    میر تقی میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 14

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter