• رونے سے اور عشق میں بیباک ہو گئے
    دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے
    غالب
  • بد ہے شگون، خیر نہیں عشق زلف میں
    اک ناگن آج کاٹ کے رستا نکل گئی
    شوق قدوائی
  • اے عشق نہیں صریح پر نقش و نگار
    دانوں سے تن لحد میں طاؤسی ہے
    میرعشق
  • سرگزشتِ عشق کی تہ کو نہ پہونچا یاں کوئی
    گرچہ پیش دوستاں یہ داستاں میں لے گیا
    میر تقی میر
  • عشق وہ کارِ مسلسل ہے کہ ہم اپنے لئے
    ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کرسکتے
    رئیس ‌فروغ
  • عشق کی غیرت سے یہ کیوںکر گوارا ہوسکے
    آنکھ ڈالیں غیر تم پر اور میں دیکھا کروں
    تسلیم
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 163

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter