• واں جہاں خاک کے برابر ہے
    قدر ہفت آسمانِ ظلم شعار
    میر تقی میر
  • خوب تھے وے دن کہ ہم تیرے گرفتاروں میں تھے
    غمزدوں‘ اندوہ گینوں‘ ظلم کے ماروں میں تھے
    میر تقی میر
  • ظلم زیاستی تھے ملک پاک اس
    کہ مشرق تے مغرب تلک دھاک اس
    قطب مشتری
  • سو ظلم کے رہتے ہیں سزاوار ہمیشہ
    ہم بیگنہ اُس کے ہیں گنہگار ہمیشہ
    میر تقی میر
  • کیا ظلم کیا بیجا مارا جیون سے اُن نے
    کچھ ٹھور بھی تھی اس کی کچھ اس کا ٹھکانا تھا
    میر تقی میر
  • اس چرخ سیہ رو نے اک فتنے کو سنکارا
    اس ظلم رسیدہ کو کس سختیوں سے مارا
    میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter