• ظلم ڈھاتے تو ہیں اپنے آرزو مندوں پہ آپ
    اور جو ہم چھوڑ بیٹھے آرزو مندی کہیں!
    فضل ‌احمد ‌کریم ‌فضلی
  • دختر کشی میں سخت تھے ظالم زیادہ تر
    اس ظلم سے تو اور بھی خوش تھے وہ بد سیر
    شاد عظیم آبادی
  • آنے والا کل

    نصف صدی ہونے کو آئی
    میرا گھر اور میری بستی
    ظُلم کی اندھی آگ میں جل جل راکھ میں ڈھلتے جاتے ہیں
    میرے لوگ اور میرے بچّے
    خوابوں اور سرابوں کے اِک جال میں اُلجھے
    کٹتے‘ مرتے‘ جاتے ہیں
    چاروں جانب ایک لہُو کی دَلدل ہے
    گلی گلی تعزیر کے پہرے‘ کوچہ کوچہ مقتل ہے
    اور یہ دُنیا…!
    عالمگیر اُخوّت کی تقدیس کی پہرے دار یہ دنیا
    ہم کو جلتے‘ کٹتے‘ مرتے‘
    دیکھتی ہے اور چُپ رہتی ہے
    زور آور کے ظلم کا سایا پَل پَل لمبا ہوتا ہے
    وادی کی ہر شام کا چہرہ خُون میں لتھڑا ہوتا ہے

    لیکن یہ جو خونِ شہیداں کی شمعیں ہیں
    جب تک ان کی لَویں سلامت!
    جب تک اِن کی آگ فروزاں!
    درد کی آخری حد پہ بھی یہ دل کو سہارا ہوتا ہے
    ہر اک کالی رات کے پیچھے ایک سویرا ہوتا ہے!
    امجد ‌اسلام ‌امجد
  • ظالم کی آنکھ ظلم کی جب خود دہائی دے
    کس دل سے پھر بھلا کوئی اپنی صفائی دے
    روحی ‌کنجاہی
  • ٹک گور غریباں کی کر سیر کہ دُنیا میں
    ان ظلم رسیدوں پر کیا کیا نہ ہوا ہوگا
    میر تقی میر
  • خوب تھے وے دن کہ ہم تیرے گرفتاروں میں تھے
    غمزدوں‘ اندوہ گینوں‘ ظلم کے ماروں میں تھے
    میر تقی میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter