• کرتی ہیں ہر شام یہ بِنتی ،آنکھیں ریت بھری
    روشن ہو اے امن کے تارے ، ظلم کے سورج، ڈھل
    امجداسلام امجد
  • ظلم ڈھاتے تو ہیں اپنے آرزو مندوں پہ آپ
    اور جو ہم چھوڑ بیٹھے آرزو مندی کہیں!
    فضل ‌احمد ‌کریم ‌فضلی
  • آنے والا کل

    نصف صدی ہونے کو آئی
    میرا گھر اور میری بستی
    ظُلم کی اندھی آگ میں جل جل راکھ میں ڈھلتے جاتے ہیں
    میرے لوگ اور میرے بچّے
    خوابوں اور سرابوں کے اِک جال میں اُلجھے
    کٹتے‘ مرتے‘ جاتے ہیں
    چاروں جانب ایک لہُو کی دَلدل ہے
    گلی گلی تعزیر کے پہرے‘ کوچہ کوچہ مقتل ہے
    اور یہ دُنیا…!
    عالمگیر اُخوّت کی تقدیس کی پہرے دار یہ دنیا
    ہم کو جلتے‘ کٹتے‘ مرتے‘
    دیکھتی ہے اور چُپ رہتی ہے
    زور آور کے ظلم کا سایا پَل پَل لمبا ہوتا ہے
    وادی کی ہر شام کا چہرہ خُون میں لتھڑا ہوتا ہے

    لیکن یہ جو خونِ شہیداں کی شمعیں ہیں
    جب تک ان کی لَویں سلامت!
    جب تک اِن کی آگ فروزاں!
    درد کی آخری حد پہ بھی یہ دل کو سہارا ہوتا ہے
    ہر اک کالی رات کے پیچھے ایک سویرا ہوتا ہے!
    امجد ‌اسلام ‌امجد
  • جس کا ضمیر ظلم سے آلودہ ناک ہے
    زندہ وہ کب ہے موت سے پہلے ہلاک ہے
    فیض بھرت پوری
  • زینت کے دل پہ ظلم کی شمشیر پھر گئی
    شہ کی نظر میں موت کی تصویر پھر گئی
    انیس
  • ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں
    ناؤ کاغذ کی سدا چلتی نہیں
    اسماعیل میرٹھی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter