• اُس ظلم پیشہ کی یہ رسم قدیم ہے گی
    غیروں پہ مہربانی یاروں سے کینہ جوئی
    میر تقی میر
  • یہ دستِ ظلم بس اب ہم پہ دلستان نہ اٹُھا
    ہمیں تُو کوچے سے اپنی کشاں کشاں نہ اُٹھا
    سحر (نواب علی )
  • ظلم اعداد نے کیا جب سے تمہیں گوشہ نشیں
    چاند سورج کو ہے گردوں پہ اسی دن سے گہن
    اسیر( مظفر علی)
  • کیا ظلم کیا بیجا مارا جیون سے اُن نے
    کچھ ٹھور بھی تھی اس کی کچھ اس کا ٹھکانا تھا
    میر تقی میر
  • جب ایسا بھائی ظلم کی تیغوں میں آڑ ہو
    پھر کس طرح نہ بھائی کی چھاتی پہاڑ ہو
    انیس
  • سو اس کو ظلم ستی مل کے شامی بدذات
    کیے شہید ہزاروں جفا ستی ہیہات
    کرم علی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter