• اک نہ اک ظلم طبیعت سے ہے ہر وقت ایجاد
    آپ یکتا ہیں زمانے کے ستمگاروں میں
    لطافت
  • وقت اخیر بھی اک ٹھو کر لگا چلا تو
    یہ ظلم تو نے ظالم مجھ پر نیا کیا ہے
    جرات
  • آنے والا کل

    نصف صدی ہونے کو آئی
    میرا گھر اور میری بستی
    ظُلم کی اندھی آگ میں جل جل راکھ میں ڈھلتے جاتے ہیں
    میرے لوگ اور میرے بچّے
    خوابوں اور سرابوں کے اِک جال میں اُلجھے
    کٹتے‘ مرتے‘ جاتے ہیں
    چاروں جانب ایک لہُو کی دَلدل ہے
    گلی گلی تعزیر کے پہرے‘ کوچہ کوچہ مقتل ہے
    اور یہ دُنیا…!
    عالمگیر اُخوّت کی تقدیس کی پہرے دار یہ دنیا
    ہم کو جلتے‘ کٹتے‘ مرتے‘
    دیکھتی ہے اور چُپ رہتی ہے
    زور آور کے ظلم کا سایا پَل پَل لمبا ہوتا ہے
    وادی کی ہر شام کا چہرہ خُون میں لتھڑا ہوتا ہے

    لیکن یہ جو خونِ شہیداں کی شمعیں ہیں
    جب تک ان کی لَویں سلامت!
    جب تک اِن کی آگ فروزاں!
    درد کی آخری حد پہ بھی یہ دل کو سہارا ہوتا ہے
    ہر اک کالی رات کے پیچھے ایک سویرا ہوتا ہے!
    امجد ‌اسلام ‌امجد
  • لاٹھی شباں اٹھائے اگر ذیب کے خلاف
    ہے ظلم اس کو کہیے جو تہذیب کے خلاف
    اکبر
  • ہر موڑ پر ہیں ظلم کے پہرے لگے ہوئے
    چلنا پڑے گا وقت کی رفتار دیکھ کر
    نامعلوم
  • بو تونے تو ظلم و ستم و جور ہی سیکھا
    الفت تجھے آنی تھی نہ بیداد گر آئی
    الماس درخشاں
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter