• زہر آنکھوں سے ٹپکتا ہے عیاذاًباللہ
    قہر کا ہے جو تہور تو غضب کی ہے نگاہ
    مونس
  • تاک میں تھے ہو بڑے موذی تم اے چھوٹے میاں
    کر گئے خایہ زہر مار انگور آپ
    جان صاحب
  • ایک بھائی کو ہے فاقہ ایک کرتا زہر مار
    اٹھ گئی دنیا کے پردے سے محبت آج کل
    جان صاحب
  • کئے ہیں مومناں کسوت حسن کے زہر تھے ہریا
    سو اس کے چھاؤں تھے اسمان اپنا رنگ بھرایا ہے
    قلی قطب شاہ
  • گالی سے لب شیریں کو بس تلخ نہ کیجے
    جو گڑ دیئے مرتا ہے اسے زہر نہ دیجے
    مصحفی
  • ابروے قاتل بجھا ہے زہر میں
    پوچھتے کیا ہو بجھاو اس تیغ کا
    ناصر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter