• کئے ہیں مومناں کسوت حسن کے زہر تھے ہریا
    سو اس کے چھاؤں تھے اسمان اپنا رنگ بھرایا ہے
    قلی قطب شاہ
  • ہر شخص اپنے وقت کا سقراط ہے یہاں
    پیتا نہیں ہے زہر کا پیالہ مگر کوئی
    مرتضٰی ‌شریف
  • صراحی ہری جو زہر جد کی ہے
    سو سلطان فیروز کے جد کی ہے
    حسن شوقی
  • جس کو ڈسا ہے زلف نے وہ تو ہے اور ہی لہر میں
    کالے کا کاٹا ہے غضب زہر چڑھا اور موا
    تراب
  • ایک صاحب نے قبول اس زہر کا پیانہ گیا
    جن نے ٹکڑے سب جگر آناً فآناً کسردیا
    سودا
  • تیرا خنجر ہے نہنگ ایسا کہ غرق زہر اب
    تیری شمشیر وہ اژدر ہے کہ ہے آتش دم
    ذوق
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter