• کس کس سے رہیں دور‘ تو کس قرب کو ڈھونڈیں
    دیتے ہیں محبت میں یہاں زہر بدل کر
    علامہ ‌رشید ‌ترابی
  • آنکھ ہے جام ہلا ہل حب افیوں خال لب
    ایک کیفیت ہے قاتل زہر اور تریاک میں
    نواب علی
  • میں تو اخلاص کا مینار ہوں‘ سقراط نہیں
    کیوں میرے دوست مجھے زہر دیا کرتے ہیں
    نامعلوم
  • گر خط سبز سے اس کے نہ تمہیں تھی کچھ لاگ
    پھر بھلا موجی یہ زہر کا کھانا کیا تھا
    میر
  • شربت مرگ آب حسرت شور یختی زہر غم
    تلخ کامی سے مجھے کیا کیا گوارا ہو گیا
    مومن
  • لذتِ زہر غم فرصتِ دلداراں سے
    ہووے منہ میں جنھوں کی شہد و شکر مت پوچھو
    میر تقی میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter