• وہ کیوں سن کے پی جائیں غیروں کی بات
    یہ ہیں زہر کے گھونٹ سربت نہیں
    مہتاب داغ
  • زہر لگتی ہے مجھے آب و ہواے زندگی
    یعنی، تجھ سے تھی اسے ناسازگاری، ہائے ہائے
    غالب
  • زہر آنکھوں سے ٹپکتا ہے عیاذاًباللہ
    قہر کا ہے جو تہور تو غضب کی ہے نگاہ
    مونس
  • گھل مل کے پلاتے ہو رقیبوں کو تو ساغر
    کیا میرے لیے زہر بھی گھولا نہیں جاتا
    داغ
  • چوٹی تیری سو ناگ ہے ہور زہر اس میں کڑوا
    اوگھر کھیلاں میں دستی توں سا چلی سنپارا
    قلی قطب شاہ
  • نگاہیں ہیں کہ اک پیمانہ زہر ہلا ہل ہیں
    ہیں افعی کا کلیں اور عقرب جرارہ ہیں ابرو
    عزیز لکھنؤی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter