• ہر شخص اپنے وقت کا سقراط ہے یہاں
    پیتا نہیں ہے زہر کا پیالہ مگر کوئی
    مرتضٰی ‌شریف
  • کس کس سے رہیں دور‘ تو کس قرب کو ڈھونڈیں
    دیتے ہیں محبت میں یہاں زہر بدل کر
    علامہ ‌رشید ‌ترابی
  • سبھوں کو مے‘ ہمیں خونناب دل پلانا تھا
    فلک ہمیں پہ تجھے کیا یہ زہر کھانا تھا
    نظیر
  • نو روز ہور روزِ عید کی خوشیاں ملے یک چاند میں
    مارو رقیباں کے دلاں میں زہر بیکاں عید کا
    قلی قطب شاہ
  • یوں تو مرنے کے لئے زہر سب ہی پیتے ہیں
    زندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نے
    خلیل ‌الرحمٰن ‌اعظمی
  • زہر آنکھوں سے ٹپکتا ہے عیاذاًباللہ
    قہر کا ہے جو تہور تو غضب کی ہے نگاہ
    مونس
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter