• کہو ہو دیکھ کر کیا زہر لب ہم ناتوانوں کو
    ہماری جان میں طاقت نہیں باتیں اٹھانے کی
    میر
  • وہ کیوں سن کے پی جائیں غیروں کی بات
    یہ ہیں زہر کے گھونٹ سربت نہیں
    مہتاب داغ
  • میٹھی باتیں نہ تو کیا کر
    مرجائے گا کوئی زہر کھا کر
    بحر (امداد علی)
  • عجیب زہر تھا محرومیوں کا حاصل بھی
    بدن پہ چل نہ سکا‘ روح تک اُتر بھی گیا
    جمشید ‌مسرور
  • رہے محروم تیری زلف کے مہرے سوں وہ دائم
    جو کئی تیرے نین کوں زہر قاتل کر نہیں گنتے
    ولی
  • آتا ہے جب خیال میں وو سرو سبز پوش
    ہوتا ہے زہر عشق سوں سب تن بدن ہرا
    داؤد اورنگ آبادی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter