• تمام عمر گئی اُس پہ ہاتھ رکھتے ہمیں
    وہ درد ناک علی الرغم بیقرار رہا
    میر تقی میر
  • شرف حرف مائل در کچھ نہ بسائے
    گرد چھوئیں دربار کی سو درد دور ہوجائے
    شیخ شرف الدین منیری
  • زخم کی خیر نہ مانگوں کہ بڑھے اور بڑھے
    لذت درد نہ چاہوں کہ ترقی ہی کرے
    نقوش مانی
  • کون سا بھولا بسرا غم تھا جو آیا ہے یاد
    رہ رہ کر پھر دل میں اٹھے درد کی میٹھی لہر
    شفیق ‌سلیمی
  • درد کی رہگزار میں، چلتے تو کس خمار میں
    چشم کہ بے نگاہ تھی، ہونٹ کہ بے خطاب تھے
    امجد اسلام امجد
  • اَدھر کے پھول چنُنا عیش ہے دانتاں کے چمٹے سُوں
    ووچمٹانا دجن تا فہمے اُس کے دل اچھو سو درد
    قلی قطب شاہ
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 65

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter