• اسے عشق کا درد سب پور ہے
    او معشوق سوں اپنے مہجور ہے
    رضوان شاہ و روح افزا
  • گئے پہ تیرے نہ تھا ہم نفس کوئی اے گل
    کبھو نسیم سے میں درد دل کہا کرتا
    میر
  • تو میرے درد سے آگاہ یوں نہ ہوگا کبھی
    الٰہی چوٹ کسی دن ترے بھی دل کو لگے
    انتخاب رامپور
  • کیا کہوں کیا طرحیں بدلیں چاہ نے آخر کو میر
    تھا گرہ جو درد چھاتی ہیں سو اب غم ہوگیا
    میر تقی میر
  • میں یہ نہ مانوں گی مرے آگے بھی ہیں پسر
    اس درد کی ہے صاحب اولاد کو خبر
    دبیر
  • دوا کرنے یاں آدمی کام نین
    کہ یو درد آدمیں کوں کچ فام نیں
    قطب مشتری
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 65

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter