• وہ جو گیت تم نے سنا نہیں، مری عمر بھر کا رہاض تھا
    مرے درد کی تھی وہ داستاں، جسے تم ہنسی میں اُڑا گئے
    امجد اسلام امجد
  • میں یہ نہ مانوں گی مرے آگے بھی ہیں پسر
    اس درد کی ہے صاحب اولاد کو خبر
    دبیر
  • لا علاجی میں تھی بہت تسکیں
    بڑھ گیا اور درد درماں سے
    نشید خسروانی
  • بلوہ تھا درد خواہوں کا س کی گلی میں رات
    خوموش سب کو کردیاپر اک سخن کے بیچ
    حسرت (جعفر علی )
  • تمہید ہو چکی تو وہ مطلب پہ بول اٹھے
    بے درد سونے دے مجھے اب داستان چھوڑ
    نشید خسروانی
  • کب تک رہیں گےپہلو لگائے زمیں سے ہم
    یہ درد اب کہیں گے کسو شانہ ہیں سے ہم
    میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 65

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter