• ٹھنڈک پڑی وہ دل میں کہ درد و الم کیا
    راہ خدا میں اشکوں کا طوفان تھم گیا
    مائل
  • مقصود درد دل ہے نہ اسلام ہے نہ کفر
    پھر ہر گلے میں سبحہ و زنار کیوں نہ ہو
    میر تقی میر
  • کس کو خبر ہے رات کے تارے کب نِکلے کب ڈوب گئے
    شام و سحر کا پیچھا چھوڑا آپ کے درد نصیبوں نے
    ابنِ انشا
  • چھُپ چھُپ کے دل ہی دل میں سلگنے سے فائدہ
    وہ درد مجھ کو دو‘ جو تمہیں بھی دکھا سکوں
    قتیل ‌شفائی
  • یہی چپ ہے تو درد دل کہیئے
    مونہہ سے کیونکر جواب نکلے گا
    میر تقی میر
  • تمہید ہو چکی تو وہ مطلب پہ بول اٹھے
    بے درد سونے دے مجھے اب داستان چھوڑ
    نشید خسروانی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 65

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter