• درد مندانِ محبت تو ہیں بدنام فراز
    ورنہ کچھ کچھ یہ حسین لوگ بھی دیوانے ہیں
    احمد ‌فراز
  • وہ دل میں ہوک سی اٹُھی وہ مجھ کو ہوش آیا
    وہ درد جس کی دوا تو ہے بھر چمکتا ہے
    فانی
  • جدھاں تھے درد کا پائی لذت تج عشق کی دولت
    تدھاں تھے ڈھوسٹے جَل میں ، طباں اپنی طبیباں سب
    عبداللہ قطب شاہ
  • کچھ ایسا درد تھا بانگِ جرس میں
    سفر سے قبل پچھتانے لگے ہیں
    امجد اسلام امجد
  • بادل… میں اور تم

    بادل کے اور بحر کے رشتے عجیب ہیں!
    کالی گھٹا کے دوش پہ برفوں کا رخت ہے
    جتنے زمیں پہ بہتے ہیں دریا‘ سبھی کا رُخ
    اِک بحر بے کنار کی منزل کی سمت ہے

    خوابوں میں ایک بھیگی ہُوئی خُوش دِلی کے ساتھ
    ملتی ہے آشنا سے کوئی اجنبی سی موج
    بادل بھنور کے ہاتھ سے لیتے ہیں اپنا رزق
    پھر اس کو بانٹتے ہیں عجب بے رُخی کے ساتھ!
    جنگل میں‘ صحن باغ میں‘ شہروں میں‘ دشت میں
    چشموں میں‘ آبشار میں‘ جھیلوں کے طشت میں
    گاہے یہ اوس بن کے سنورتے ہیں برگ برگ
    گاہے کسی کی آنکھ میں بھرتے ہیں اس طرح
    آنسو کی ایک بُوند میں دجلہ دکھائی دے
    اور دُوسرے ہی پَل میں جو دیکھو تو دُور تک
    ریگ روانِ درد کا صحرا دکھائی دے!

    بادل کے اور بحر کے جتنے ہیں سلسلے
    مُجھ سے بھی تیری آنکھ کے رشتے‘ وہی تو ہیں!!
    امجد ‌اسلام ‌امجد
  • گاہ وہمِ دہن اور گاہ کمر کا ہے خیال
    عاشقوں کو بھی عجب درد سری رہتی ہے
    اظفری
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 65

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter