• رکھے ہیں میر ترے منہ سے بیوفا خاطر
    تری جفا کے تغافل کی بدگمانی کی
    میر تقی میر
  • تو ہے کس ناحیہ سے اے دیار عشق کیا جانوں
    ترے باشندگاں ہم کاش سارے بیوفا ہوتے
    میر تقی میر
  • ظالم وہ بیوفا ہے عدو جس کے رشک سے
    اتنا کچھ آگیا خلل اپنے نباہ میں
    مومن
  • لایا مرے مزار پہ اُس کو یہ جذب عشق
    جس بیوفا کو نام سے بھی میرے ننگ تھا
    میر تقی میر
  • میں آزما چکا ہوں نہ کھانا کوئی فریب
    اس بیوفا کا قول و قسم دم سے کم نہیں
    شہیدی(کرامت علی)
  • لفظوں کی اک پتنگ تھی بڑھ کر نکل گئی
    کس بیوفا کو دل سے لگایا تھا بھول میں
    ماجد ‌الباقری
First Previous
1 2
Next Last
Page 1 of 2

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter