• میں بھیگ بھیگ گیا آرزو کی بارش میں
    وہ عکس عکس میں تقسیم چشمِ ترسے ہُوا
    امجد اسلام امجد
  • اِک ایسے ہجر کی آتش ہے میرے دل میں جِسے
    کسی وصال کی بارش بُجھا نہیں سکتی
    امجد ‌اسلام ‌امجد
  • جس تنہا سے پیڑ کے نیچے ہم بارش میں بھیگے تھے
    تم بھی اُس کو چھوکے گزرنا، میں بھی اُس سے لپٹوں گا
    امجد اسلام امجد
  • ہر نخل پر ضیاے سر کوہ طور تھی
    گویا فلک سے بارش باران نور تھی
    انیس
  • آنکھ اور منظر کی وسعت میں چاروں جانب بارش ہے
    اور بارش مین‘ دُور کہیں اِک گھر ہے جس کی
    ایک ایک اینٹ پہ تیرے میرے خواب لکھے ہیں
    اور اُس گھر کو جانے والی کچھ گلیاں ہیں
    جن میں ہم دونوں کے سائے تنہا تنہا بھیگ رہے ہیں
    دروازے پر قفل پڑا ہے اور دریچے سُونے ہیں
    دیواروں پر جمی ہُوئی کائی میں چھُپ کر
    موسم ہم کو دیکھ رہے ہیں
    کتنے بادل‘ ہم دونوں کی آنکھ سے اوجھل
    برس برس کر گُزر چُکے ہیں‘

    ایک کمی سی‘
    ایک نمی سی‘
    چاروں جانب پھیل رہی ہے‘
    کئی زمانے ایک ہی پَل میں
    باہم مل کر بھیگ رہے ہیں
    اندر یادیں سُوکھ رہی ہیں
    باہر منظر بھیگ رہے ہیں
    امجد ‌اسلام ‌امجد
  • پیڑوں کی طرح حُسن کی بارش میں نہالُوں
    بادل کی طرح جھوم کے گھر آؤ کسی دن
    امجد اسلام امجد
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter