• آج بہت دن بعد سُنی ہے بارش کی آواز
    آج بہت دن بعد کسی منظر نے رستہ روکا ہے
    رِم جِھم کا ملبوس پہن کر یاد کسی کی آئی ہے
    آج بہت دن بعد اچانک آنکھ یونہی بھر آئی ہے
    امجد ‌اسلام ‌امجد
  • مظہر، اَزل کے حُسن کے امجد ہیں بے شمار
    لیکن جو دیکھئے تو ہے بارش کی بات اور
    امجداسلام امجد
  • جس تنہا سے پیڑ کے نیچے ہم بارش میں بھیگے تھے
    تم بھی اُس کو چھوکے گزرنا، میں بھی اُس سے لپٹوں گا
    امجد اسلام امجد
  • جتنا خورشید تپے اتنی ہی بارش ہو سوا
    ہووے کیونکر تپش عشق نہ رحمت کی دلیل
    ذوق
  • چاروں طرف کمان کیانی کی وہ ترنگ
    رہ رہ کے ابر شام سے تھی بارش خدنگ
    انیس
  • میں اب کی فصل بارش میں بناتا اس کا پر نالا
    جو ہوتا بانس کا ٹونٹا الف چاک گریباں کا
    ظریف لکھنؤی
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter