• جیسے بارش سے دھلے صحنِ گلستاں امجد
    آنکھ جب خشک ہوئی اور بھی چہرا چمکا
    امجد اسلام امجد
  • ساری رات برسنے والی بارش کا میں آنچل ہوں
    دن میں کانٹوں پر پھیلا کو مجھ کو کھینچا جاتا ہے
    بشیر بدر
  • پشت خم یوں کردیا ہے سیل گریہ نے یہ خم
    جس طرح آسیب سے بارش کے ہو دیوار کج
    جسونت سنگھ پروانہ
  • بارش

    ایک ہی بارش برس رہی ہے چاروں جانب
    بام و در پر… شجر حجر پر
    گھاس کے اُجلے نرم بدن اور ٹین کی چھت پر
    شاخ شاخ میں اُگنے والے برگ و ثمر پر‘
    لیکن اس کی دل میں اُترتی مُگّھم سی آواز کے اندر
    جانے کتنی آوازیں ہیں…!!
    قطرہ قطرہ دل میں اُترنے ‘ پھیلنے والی آوازیں
    جن کو ہم محسوس تو کرسکتے ہیں لیکن
    لفظوں میں دوہرا نہیں پاتے
    جانتے ہیں‘ سمجھا نہیں پاتے
    جیسے پت جھڑ کے موسم میں ایک ہی پیڑ پہ اُگنے والے
    ہر پتّے پر ایسا ایک سماں ہوتا ہے
    جو بس اُس کا ہی ہوتا ہے
    جیسے ایک ہی دُھن کے اندر بجنے والے ساز
    اور اُن کی آواز…
    کھڑکی کے شیشوں پر پڑتی بوندوں کی آواز کا جادُو
    رِم جھم کے آہنگ میں ڈھل کر سرگوشی بن جاتا ہے
    اور لہُو کے خلیے اُس کی باتیں سُن لگ جاتے ہیں‘
    ماضی‘ حال اور مستقبل ‘ تینوں کے چہرے
    گڈ مڈ سے ہوجاتے ہیں
    آپس میں کھو جاتے ہیں
    چاروں جانب ایک دھنک کا پردہ سا لہراتا ہے
    وقت کا پہیّہ چلتے چلتے‘ تھوڑی دیر کو تھم جاتا ہے
    امجد ‌اسلام ‌امجد
  • ہر نخل پر ضیاے سر کوہ طور تھی
    گویا فلک سے بارش باران نور تھی
    انیس
  • میں بھیگ بھیگ گیا آرزو کی بارش میں
    وہ عکس عکس میں تقسیم چشمِ ترسے ہُوا
    امجد اسلام امجد
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter