• جس تنہا سے پیڑ کے نیچے ہم بارش میں بھیگے تھے
    تم بھی اُس کو چھوکے گزرنا، میں بھی اُس سے لپٹوں گا
    امجد اسلام امجد
  • گریہ پہ میرے کیوں نہ وہ خندہ ہو دم بدم
    بارش میں لطف رکھتی ہے برق جہاں کی سیر
    معروف
  • بہت سے لوگ دل کو ا طرح محفوظ رکھتے ہیں
    کوئی بارش ہو یہ کاغذ ذرا بھی نم نہیں ہوتا
    بشیر بدر
  • اِک ایسے ہجر کی آتش ہے میرے دل میں جِسے
    کسی وصال کی بارش بُجھا نہیں سکتی
    امجد ‌اسلام ‌امجد
  • بے موسم بارش کی صورت، دیر تلک اور دُور تلک
    تیرے دیارِ حُسن پہ میں بھی کِن مِن کِن مِن برسوں گا
    امجد اسلام امجد
  • بارش کی آواز سے امجد
    شہر کا چہرہ کِھل اٹھا ہے
    امجد اسلام امجد
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter