• افسوس اب کہاں وہ جوانی کہاں وہ دور
    پیتے تھے ہم بھی پیر مغاں خم کے خم کبھی
    الماس درخشاں
  • افسوس کی جگہ ہے کہ وہ گل کرے نہ ید
    ہم فصلِ گل میں ایسے گلستاں سے دور ہوں
    مصحفی
  • افسوس گلا کاٹ کے مر بھی نہ سکے ہم
    مصروف رہے ہاتھ شب ہجر دعا میں
    داغ
  • افسوس پڑگئے ہیں کف پا میں آبلے
    آیا ہے بے وفا کبھی مجھ تک جو خواب میں
    دیوان تسلیم
  • ہر آنکھ میں افسوس نے جالے سے تنے ہیں
    ماحول کے جادُو سے رہا کوئی نہیں ہے
    امجد اسلام امجد
  • افسوس کوئی نیکی گرہ میں نہیں مری
    لنبے سفر کے واسطے زاد سفر نہیں
    ترانہ مسرت
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 12

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter