• افسوس کچھ نہ میری رہائی کا ڈھب ہوا
    چھوٹا ادھر قفس سے ادھر میں طلب ہوا
    مظہر عشق
  • افسوس اہل دید کو گلشن میں جا نہیں
    نرگس کی گو کہ آنکھیں ہیں پر سوجھتا نہیں
    درد
  • اس بار تم کو آنے میں کچھ دیر ہوگئی
    تھک ہار کے وہ سوگیا افسوس مت کرو
    بشیر بدر
  • دل و دماغ ہے اب کس کو زندگانی کا
    جو کوئی دم ہے تو افسوس ہے جوانی کا
    میر تقی میر
  • افسوس کہ ان بتوں کے ہاتھوں
    اب آن نبی اثر خدا ہے
    اثر
  • مرا افسوس کھا جو تو پور یناں ساکیاں یوں کئیں
    ے بیرا سانچ بھاری ہے بتھا بچھڑی یہ بالم کا
    ہاشمی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 12

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter