• آنکھیں گئیں حال اپنا دکھایا نہ گیا
    رخصت ہوئے، درد و غم جو کھایا نہ گیا
    پیارے صاحب رشید
  • ابکا کی طرح عالم ، آنکھیں اُبل پڑی ہیں
    دیوانہ وہ دہر کا ، ایک ہہ پہلو سے بے قرار
    یاس
  • ملتی ہے نظر جس سے جھکا لیتا ہے آنکھیں
    منھ دیکھتی ہوں جسکا جھپالیتا ہے آنکھیں
    شہید لکھنوی
  • آنکھیں پھیلا کے جدھر فوج گراں میں دیکھا
    نہ تو افسر تھے جگہ پر نہ علمدار بجا
    یاور اعظمی
  • اس قدر پھیلا دہن تیر اکہ گھونگھا بن گیا
    اس قدر سمٹیں تری آنکھیں کہ ٹیاں ہوگئیں
    ظریف لکھنوی
  • بیٹھے سے بیگار بھل آج اس کے گھر چل دیکھوں میں
    اور نہ ہو کچھ حاصل رخ پر آنکھیں تو پڑجائیں گی
    شوق قدوائی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter