• یہی ہے سرفرازی خاکساران محبت کی
    ترے تلووں سے آنکھیں نقش پاکی طرح ملتے ہیں
    مرزا انس
  • نے مروت نے کبھی آنکھیں برابر تک نہ کیں
    نالہ کس حسرت سے منہ تکتا رہا تاثیر کا
    شاد
  • آنکھیں جھپک رہی تھیں کلس کی جو تاب سے
    حیرت ٹیک رہی تھی رخ آفتاب سے
    شاد عظیم آبادی
  • لگ رہی ہیں ترے عاشق کی جو آنکھیں چھت سے
    تجکو دیکھا ہے مگر ان نے لب بام کہیں
    تاباں
  • جب میں دیکھوں ہوں آنکھ بھرکے تمھیں
    بدل آنکھیں مجھے دھراتے ہو
    اظفری
  • ترے دل میں ہے مصری، چاہ یوسف بیگ بھیا کی
    نہ کیوں آنکھیں چرائے مجھ سے مرتا تجھ میں پانی ہے
    جان صاحب
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter