• یہ مثل وہ ہے بدی آنکھ کی بھوں کے آگے
    مجھ سے کرتی ہیں شکایت تری اے یار آنکھیں
    بیخود(ہادی علی٩
  • آنکھیں جھکا کے بولے یہ مولاے مشرقین
    میں ہوں حسین احمد مرسل کا نورعین
    (ق)
  • نیل پیل کرتے ہیں آنکھیں جو مجھکو دیکھ کر
    ایک رنگ آتا ہے اک جاتا ہے مجھ رنجور کا
    داغ
  • داغ دل پر خیر گزرے تو غنیمت جانیے
    دشمن جاں ہےں جو آنکھیں دیکھتی ہیں سوے دوست
    آتش
  • قاصد پیامِ شوق کو دینا نہ اتنا طول
    کہنا فقط یہ ان سے کہ آنکھیں ترس گئیں
    جلیل مانکپوری
  • ایک کیا آنکھیں ہیں مری بھی اُدھر
    تجھ سے راجی بے بصر اہل نظر
    میر تقی میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter