• دیکھیں ہیں راہ کس کی یارب کہ اختروں کی
    رہتی ہیں باز آنکھیں چنداں ہزار ہر شب
    میر تقی میر
  • اب وہ نہیں کہ آنکھیں تھیں پُر آب روز و شب
    ٹپکا کرے ہے آنکھوں سے خوشاب روز و شب
    میر تقی میر
  • مشکیزہ لیے پانی جو بھرنے کو تھے آئے
    دریا کے حبابوں سے رہے آنکھیں لگائے
    شمیم
  • آنکھیں ملا کبھو تو کب تک کیا کروں میں
    دُنبالہ گردی تیری اے آہوئے رسیدہ
    میر
  • آب شور اشک کا آنکھیں بھی مری لے دوڑیں
    ان کے نتھ کے جو کبھی ہوگئے گوہر میلے
    انتخاب رامپور
  • آنکھیں بے نور ہوئیں بالوں نے بھی بدلا رنگ
    صبح پیری سے ہوئی جسم کی تعمیر سفید
    رشک
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter