• در ہی کے تئیں تکتے پتھرآگئیں آنکھیں تو
    وہ ظالم سنگیں دل کب میر کے گھر آیا
    میر تقی میر
  • زیب دیتی ہیں حو ارباب نظر کو آنکھیں
    دیدہ دیزی سے وہ ملتی ہیں بشر کو آنکھیں
    برجیس
  • بے ترے جب مائل گلزار آنکھیں ہوگئیں
    کچھ نہ سوجھا باغ میں دیوار آنکھیں ہوگئیں
    اثر
  • ہنس پڑتا ہے بہت زیادہ غم میں بھی انساں
    بہت خوشی سے بھی تو آنکھیں ہوجاتی ہیں نم!
    امجد اسلام امجد
  • الفت ہمدرد میں باز آئیں آنکھیں خواب سے
    نیند اوڑ جاتی ہے ہر شب نالہ سرخاب سے
    سحر (نواب علی خاں)
  • ایسی اندھی ہوئیں آنکھیں کہ نہ سوجھا موقع
    وہ جو آیا تو اسی وقت انہیں بھر آنا تھا
    شوق قدوائی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter