• کردیے افسوس وہ روزن ہی جاسوسوں نے بند
    جن میں کچھ تھوڑی سی تھی آنکھیں لڑانے کی جگہ
    انتخاب رامپور
  • اونگھیے آگے نہ اس بے پیر کے
    وہ نمک بھردے گا آنکھیں چیرکے
    فرقتی
  • گل ہی کی اور ہم بھی آنکھیں لگا رکھیں گے
    ایک آدھ دن جو موسم اب کی وفا کرے ہے
    میر تقی میر
  • مژہ کو خار وہ سمجھے گا بد گمانی سے
    میں اس کی راہ میں آنکھیں اگر بچھاؤں گا
    ریاض مصنف
  • کیا تھمے مینھ سقف چھلنی تمام
    چھت سے آنکھیں لگی رہے ہیں مدام
    میر
  • آنکھیں جو دم نزع ہوئیں بند کھلے کان
    آواز سنائی پڑی یاران وطن کی
    اشک
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter