• وہی عاشق کی تیرے حسرت دیدار دیکھے گا
    کھل رہ گئی ہوں بعد از ذبح حبس تخچیر کی آنکھیں
    قائم
  • نہ اونچی ہونگی آنکھیں شرم و خفت سے کہیں اپنی
    یہ گردن بار الفت سے جھکی ہے ان کے احساں پر
    واجد علی شاہ
  • جب میں دیکھوں ہوں آنکھ بھرکے تمھیں
    بدل آنکھیں مجھے دھراتے ہو
    اظفری
  • کنار نہر مسافر نے کلفتیں وہ سہیں
    کہ بار بار حبابوں کی آنکھیں پھوٹ بہیں
    شمیم
  • خواب نگر ہے آنکھیں کھولے دیکھ رہا ہُوں
    اُس کو اپنی جانب آتے دیکھ رہا ہُوں
    امجد اسلام امجد
  • ظرفِ دل دیکھنا تو آنکھیں کرب سے پتھرا گئی
    خون رونے کی تمنا کا یہ خمیازہ نہ تھا
    احمد ‌فراز
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter