• دل عاشق میں کرے کیونکہ نہ آنسو سوراخ
    اس الماس سے جات اہے یہ بیندھا گوہر
    ذوق
  • سنا ہے سنگدل کی آنکھ سے آنسو نہیں بہتے
    اگر یہ سچ ہے تو پھر پتھر سے کیوں چشمے اُبلتے ہیں
    محشر ‌بدایونی
  • کبھو آنکھوں میں اپنی آنسو بھر لائے
    کبھو ہنسکر وہ آپی آپ رہ جائے
    سودا
  • آنسو آتے ہیں جو آنکھوں میں تو پی جاتا ہوں
    کیا تماشا ہے کہ بہتا ہے یہ دریا الٹا
    الماس درخشاں
  • کیا کیا نہ جدا دوست ہوئے پل کے جھپکتے
    بھر بھر کے میں آنسو غم احباب میں رویا
    میر حسن
  • تدبیر اک نکالی ہے آنسو نہ اب بہاؤ
    ہم پانی لینے جاتے ہیں تم ماں کے پاس جاؤ
    انیس
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter