• تھی جتنی رطوبت غریزی اے شوق
    آنکھوں سے نکل گئی وہ آنسو ہو کر
    شوق قدوائی
  • شام کے پیر کی سرمئی شاخ پر پتیوں میں چھپا کوئی جگنو بھی ہے
    ساحلوں پرپڑی سیپیوں میں کہیں جھلملاتا ہوا ایک آنسو بھی ہے
    بشیر بدر
  • جو آنسو دل میں گرتے ہیں وہ آنکھوں میں نہیں رہتے
    بہت سے حرف ایسے ہیں جو لفظوں میں نہیں رہتے
    امجد اسلام امجد
  • شبنم کی طرح آنکھ سے آنسو برس پڑے
    دل سے جب آئی یاد گزشتہ بہار کی
    نگہت ‌فاطمہ
  • اے فلک گریہ پیہم ہے یہ کس کے غم میں
    دامن ابر سے چھنتے ہیں برابر آنسو
    نسیم دہلوی
  • یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہوجاوے
    اگر پیوے کوئی ان کو تو جل کر خاک ہوجاوے
    یقین
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter