• بادہ بے یار پیوں شرط وفا سے ہے بعید
    جانتا ہوں قطرات مئے احمر آنسو
    نسیم دہلوی
  • گو بظاہر میرے افسانے پہ وہ ہنستے رہے
    آنکھ میں آنسو مگر بے اختیار آ ہی گیا
    استاد ‌قمر ‌جلالوی
  • ٹوٹ جانے سے ستاروں نے بھی وقعت کھوئی
    میرے آنسو میری پلکوں میں سنبھلتے رہنا
    امید ‌فاضلی
  • آنکھیں پتھرا گئیں جوں سنگ سلیمانی آہ
    نکلے آنسو تو یہ الفت نے نچوڑے پتھر
    جرأت
  • سوزش بہت ہو دل میں تو آنسو کو ہی نہ جا
    کرتا ہے کام آگ کا ایسی جلن میں آب
    میر
  • آنکھ کم بخت سے اس بزم میں آنسو نہ رکا
    ایک قطرے نے ڈبویا مجھے دریا ہوکر
    حفیظ جالندھری
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter