• کانتی آواز سے جب میں خدا حافظ کہوں
    آ بھی جائیں آنکھ میں آنسو تو پی جانا ذرا
    شکیل ‌بدایونی
  • شام کے پیر کی سرمئی شاخ پر پتیوں میں چھپا کوئی جگنو بھی ہے
    ساحلوں پرپڑی سیپیوں میں کہیں جھلملاتا ہوا ایک آنسو بھی ہے
    بشیر بدر
  • رہتا نہیں ہے آنکھ سے آنسو ترے لیے
    دیکھی جو اچھی شے تو یہ لڑکا مچل پڑا
    میر تقی میر
  • لاتے نہیں نظر میں غلطانی گہر کو
    ہم معتقد ہیں اپنے آنسو ہی کی ڈھلک کے
    میر
  • بھیا مرے سر کی قسم آنسو نہ بہاؤ
    رونا مر ادیکھا نہیں جاتا تو نہ جاؤ
    مونس
  • صبا سے کرتے ہیں غربت نصیب ذکرِ وطن
    تو چشم صبح میں آنسو ابھرنے لگتے ہیں
    فیض ‌احمد ‌فیض
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter