• شب گریہ کہ وابستہ مری دل شکنی تھی
    جو بوند تھی آنسو کی سو ہیرے کی کنی تھی
    قائم
  • شدت غم کا تقاضا تھا کہ دواے گلرو
    ظلم کے ڈر سے مگر سوکھ گئے تھے آنسو
    شمیم
  • حیات ایک مستقل غم کے سوا کچھ بھی نہیں
    خوشی بھی یاد آتی ہے تو آنسو بن کے آتی ہے
    ساحر ‌لدھیانوی
  • آنسو دیئے پر آنکھ کو رونے کی خو نہ دی
    اے بادشاہِ غم، یہ عنایت عجیب تھی
    امجد اسلام امجد
  • مرا آنسو ہے وہ زہر آب‘ نیلا ہو بدن‘ سارا
    خدا نا کردہ لگ جائے گر اے غم خوار دامن سے
    ذوق
  • آبشار اشک کے کام آتے ہیں عریانی میں
    کہ اڑھادیتے ہیں اکثر مجھے چادر آنسو
    نسیم دہلوی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter