• شمول خون دل سے ہو گیا گل رنگ یا شاید
    تمہارے رنگ عارض کا اثر ہے میرے آنسو میں
    نقوش مانی
  • بچھی تھیں ہر طرف آنکھیں ہی آنکھیں
    کوئی آنسو گرا تھا ، یاد ہوگا
    بشیر بدر
  • سنتے ہی اس کے ، شمع کے آنسو ہوئے رواں
    جب بات چل پڑی ،مرے دل کی گداز کی
    شہیدی
  • بھیا مرے سر کی قسم آنسو نہ بہاؤ
    رونا مر ادیکھا نہیں جاتا تو نہ جاؤ
    مونس
  • ہوتی بھلی وہ چشم جو آنسو سے تر نہیں
    کس کام کا وہ سیپ کہ جس میں گہر نہیں
    قائم
  • رات رو رو کے کٹی‘ صبح کو دامن تر تھا
    یہ تو آنسو نہ ہوئے کرب کی برسات ہوئی
    نامعلوم
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter