• مایوسِ آرزو بھی ہوں‘ مانوسِ یاس بھی
    دل میں جگہ نہیں ہے تمنا کے واسطے
    بیخود ‌دہلوی
  • ہَوا بُرد

    مِرے ہم سَفر
    مِرے جسم و جاں کے ہر ایک رشتے سے معتبر‘ مرے ہم سَفر
    تجھے یاد ہیں! تجھے یاد ہیں!
    وہ جو قربتوں کے سُرور میں
    تری آرزو کے حصار میں
    مِری خواہشوں کے وفور میں
    کئی ذائقے تھے گُھلے ہُوئے
    درِ گلستاں سے بہار تک
    وہ جو راستے تھے‘ کُھلے ہُوئے!
    سرِ لوحِ جاں‘
    کسی اجنبی سی زبان کے
    وہ جو خُوشنما سے حروف تھے!
    وہ جو سرخوشی کا غبار سا تھا چہار سُو
    جہاں ایک دُوجے کے رُوبرو
    ہمیں اپنی رُوحوں میں پھیلتی کسی نغمگی کی خبر ملی
    کِسی روشنی کی نظر ملی‘
    ہمیں روشنی کی نظر ملی تو جو ریزہ ریزہ سے عکس تھے
    وہ بہم ہُوئے
    وہ بہم ہُوئے تو پتہ چلا
    کہ جو آگ سی ہے شرر فشاں مِری خاک میں
    اُسی آگ کا
    کوئی اَن بُجھا سا نشان ہے‘ تری خاک میں!
    اسی خاکداں میں وہ خواب ہے
    جسے شکل دینے کے واسطے
    یہ جو شش جہات کا کھیل ہے یہ رواں ہُوا
    اسی روشنی سے ’’مکاں‘‘ بنا‘ اسی روشنی سے ’’زماں‘‘ ہُوا
    یہ جو ہر گُماں کا یقین ہے!
    وہ جو ہر یقیں کا گمان تھا!
    اسی داستاں کا بیان تھا!
    امجد اسلام امجد
  • حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی
    دل جوش گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی
    غالب
  • رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لیے
    یہ اور بات تیری آرزو نہ راس آئی
    ناصر کاظمی
  • نگاہِ شوق میرا مدعا تو ان کو سمجھادے
    میرے منہ سے تو حرفِ آرزو مشکل سے نکلے گا
    فانی
  • وہ بے کس کیا کرے گر تُرہی دل ہی کی دل ہی میں
    نپٹ بے جا ترا دل میر سے اے آرزو ٹوٹا
    میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 21

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter