• امجد وہ آنکھیں جھیل سی گہری تو ہیں مگر
    ان میں کوئی بھی عکس مرے نام کا نہیں
    امجد اسلام امجد
  • چاروں طرف جو لائے پرے تھے لہو میں تو
    حسرت سے آنکھیں پھاڑ کے دیکھا ادھر ادھر
    شمیم
  • بدن سے اٹھتی تھی اُس کے خوشبو، صبا کے لہجے میں بولتا تھا
    یہ میری آنکھیں تھیں اُس کا بستر، وہ میرے خوابوں میں جاگتا تھا
    امجد اسلام امجد
  • وہاں آنکھیں ہیں ان کی دکھنے آئیں
    ہمیں یاں موت کا گھرا لگا ہے
    امانت لکھنوی
  • فوجوں پہ قہر دھائے گی چتون دلیر کی
    بھاکو کہ آنکھیں خون میں ڈوبی ہیں سیر کی
    شمیم
  • گھر میں گئی بیمار جو کنبے سے بچھڑ کر
    تیورانے لگیں آنکھیں گری سر کو پکڑ کر
    فیض بھرت پوری
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter