• خوبی رود چشم سے آنکھیں آتک گئیں
    پلکوں کی صف کو دیکھ کے پھیڑیں سرک گئیں
    میر
  • آنکھیں پتھرا گئیں جوں سنگ سلیمانی آہ
    نکلے آنسو تو یہ الفت نے نچوڑے پتھر
    جرات
  • اب تو آنکھیں نیل پیل کر جتاتا ہے وہ شوخ
    بزم میں آ چشم جیرت سے نہ دیکھا کر ہمیں
    جرأت
  • بچھی تھیں ہر طرف آنکھیں ہی آنکھیں
    کوئی آنسو گرا تھا ، یاد ہوگا
    بشیر بدر
  • چوندھیا جاتا ہے تیرے سامنے پیر فلک
    دیکھتا ہے عارض انور کو آنکھیں چیر کر
    برق
  • شکست دل نے رلوایا یہاں تک
    کہ آنکھیں روتے روتے ٹوٹ آئیں
    محشر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter