استاد مرحوم
(ابنِ انشا)

 

استاد مرحوم نے اہلِ زبان ہونے کی وجہ سے طبیعت بھی موزون پائی تھی اور ہر طرح کا شعر کہنے پر قادر تھے۔ اردو، فارسی میں ان کے کلام کا بڑا ذخیرہ موجود ہے جو غیر مطبوعہ ہونے کی وجہ سے اگلی نسلوں کے کام آئے گا۔ اس علم و فضل کے باوجود انکسار کا یہ عالم تھا کہ ایک بار اسکول میگزین میں جس کے یہ نگران تھے، ایڈیٹر نے استاد مرحوم کے متعلق یہ لکھا کہ وہ سعدی کے ہم پلہ ہیں، انہوں نے فوراً اس کی تردید کی۔ اسکول میگزین کا یہ پرچہ ہمیشہ ساتھ رکھتے اور ایک ایک کو دکھاتے کہ دیکھو لوگوں کی میرے متعلق یہ رائے ہے حالانکہ من آنم کہ من دانم۔ ایڈیٹر کو بھی جو دسویں جماعت کا طالب علم تھا، بلا کر فہمائش کی کہ عزیزی یہ زمانہ اور طرح کا ہے۔ ایسی باتیں نہیں لکھا کرتے۔ لوگ مردہ پرست واقع ہوئے ہیں۔ حسد کے مارے جانے کیا کیا کہتے پھریں گے۔
اہل علم خصوصاً شعرا کے متعلق اکثر یہ سنا ہے کہ ہم عصروں اور پیش روؤں کے کمال کا اعتراف کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں، استاد مرحوم میں یہ بات نہ تھی، بہت فراخ دل تھے۔ فرماتے، غالب اپنے زمانے کے لحاظ سے اچھا لکھتا تھا۔ میر کے بعض اشعار کی بھی تعریف کرتے۔ امیر خسرو کی ایک غزل استاد مرحوم کی زمین میں ہے۔ فرماتے، انصاف یہ ہے کہ پہلی نظر میں فیصلہ کرنا دشوار ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کون سی (غزل) بہتر ہے ۔ پھر بتاتے کہ امیر خسرو سے کہاں کہاں محاورے کی لغزش ہوئی ہے۔ اقبال کے متعلق کہتے تھے کہ سیالکوٹ میں ایسا شاعر اب تک پیدا نہ ہوا تھا۔ اس شہر کو ان کی ذات پر فخر کرنا چاہیے۔ ایک بار بتایا کہ اقبال سے میری خط و کتابت بھی رہی ہے۔ دو تین خط علامہ مرحوم کو انہوں نے لکھے تھے کہ کسی کو ثالث بنا کر مجھ سے شاعری کا مقابلہ کر لیجیئے۔ راقم نے پوچھا نہیں کہ ان کا جواب آیا کہ نہیں۔
استاد مرحوم کو عموماً مشاعروں میں نہیں بلایا جاتا تھا کیوں کہ سب پر چھا جاتے تھے اور اچھے اچھے شاعروں کو خفیف ہونا پڑتا ۔ خود بھی نہ جاتے تھے کہ مجھ فقیر کو ان ہنگاموں سے کیا مطلب۔ البتہ جوبلی کا مشاعرہ ہوا تو ہمارے اصرار پر اس میں شریک ہوئے اور ہر چند کہ مدعو نہ تھے منتظمین نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ دیوانہ کسمنڈوی، خیال گڑگانوی اور حسرت بانس بریلوی جیسے اساتذہ سٹیج پر موجود تھے ، اس کے باوجود استاد مرحوم کو سب سے پہلے پڑھنے کی دعوت دی گئی۔ وہ منظر اب تک راقم کے آنکھوں میں ہے کہ استاد نہایت تمکنت سے ہولے ہولے قدم اٹھاتے مائک پر پہنچے اور ترنم سے اپنی مشہور غزل پڑھنی شروع کی ہے۔


ہے رشتۂ غم اور دلِ مجبور کی گردن
ہے اپنے لئے اب یہ بڑی دور کی گردن


ہال میں ایک ساناٹا سا چھا گیا۔ لوگوں نے سانس روک لئے۔ استاد مرحوم نے داد کے لئے صاحب صدر کی طرف دیکھا لیکن وہ ابھی تشریف نہ لائے تھے، کرسئِ صدارت ابھی خالی پڑی تھی۔ دوسرا شعر اس سے بھی زور دار تھا۔


صد حیف کہ مجنوں کا قدم اٹھ نہیں سکتا
اور دار پہ ہے حضرتِ منصور کی گردن


دوسرا مصرع تمام نہ ہوا تھا کہ داد کا طوفان پھٹ پڑا۔ مشاعرے کی چھت اڑنا سنا ضرور تھا، دیکھنے کا اتفاق آج ہوا۔ اب تک شعرا ایک شعر میں ایک مضمون باندھتے رہے ہیں اور وہ بھی بمشکل ۔ اس شعر میں استاد مرحوم نے ہر مصرع میں ایک مکمل مضمون باندھا ہے اور خوب باندھا ہے۔ لوگ سٹیج کی طرف دوڑے۔ غالباً استاد مرحوم کی پابوسی کے لئے۔ لیکن رضا کاروں نے انہیں باز رکھا۔ سٹیج پر بیٹھے استادوں نے جو یہ رنگ دیکھا تو اپنی غزلیں پھاڑ دیں اور اٹھ گئے۔ جان گئے تھے کہ اب ہمارا رنگ کیا جمے گا۔ ادھر لوگوں کے اشتیاق کا یہ عالم تھا کہ تیسرے شعر پر ہی فرمائش ہونے لگی مقطع پڑھیے مقطع پڑھیے ۔۔۔ ۔ چوتھے شعر پر مجمع بے قابو ہو رہا تھا کہ صدرِ جلسہ کی سواری آگئی اور منتظمین نے بہت بہت شکریہ ادا کر کے استاد مرحوم کو بغلی دروازے کے باہر چھوڑ کر اجازت چاہی۔ 
اب ضمناً ایک لطیفہ سن لیجیئے جس سے اخبار والوں کی ذہنیت عیاں ہوتی ہے۔ دوسری صبح روزنامہ "پتنگ" کے رپورٹر نے لکھا کہ جن استادوں نے غزلیں پھاڑ دی تھیں، وہ یہ کہتے بھی سنے گئے کہ عجب نامعقول مشاعرے میں آ گئے ہیں۔ لوگوں کی بے محابا داد کو اس بد باطن نے ہوٹنگ کا نام دیا اور استاد مرحوم کے اس مصرع کو " صد حیف کہ مجنوں کا قدم اٹھ نہیں سکتا" بوجۂ لا علمی یا شرارت بجائے توارد کے سرقہ قرار دیا۔ بات فقط اتنی تھی کہ منتظمین نے ایڈیٹر پتنگ کے اہل خانہ کو مشاعرے کے پاس معقول تعداد میں نہ بھیجے تھے۔ اگر یہ بات تھی تو اسے منتظمین کے خلاف لکھنا چاہیے تھا نہ کہ استاد مرحوم کے خلاف اور پھر اس قسم کے فقروں کا کیا جواز ہے کہ "استاد چراغ شعر نہیں پڑھ رہے تھے روئی دھن رہے تھے۔" صحیح محاورہ روئی دھننا نہیں روئی دھنکنا ہے۔
اس دن کے بعد سے مشاعرے والے استاد مرحوم کا ایسا ادب کرنے لگے کہ اگر استاد اپنی کریم النفسی سے مجبور ہو کر پیغام بھجوا دیتے کہ میں شریک ہونے کے لئے آ رہا ہوں تو وہ خود معذرت کرنے کے لئے دوڑے آتے کہ آپ کی صحت اور مصروفیات اس کی اجازت نہیں دیتیں۔ ہمیں (ان کے نا چیز شاگردوں کو) بھی رقعہ آ جاتا کہ معمولی مشاعرہ ہے، آپ کے لائق نہیں۔ زحمت نہ فرمائیں۔


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter