قتیل شفائی

 

11 جولائی پاکستانی فلموں کے لیے لازوال گیت تخلیق کرنے والے نامور شاعر قتیل شفائی کی برسی کا دن ہے۔

قتیل شفائی کا اصل نام اورنگزیب خان تھا، یہ 24  دسمبر 1919ء کو صوبہ خیبر پختونخواہ ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے، قتیل شفائی نہایت مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ انہوں نے صرف 13 برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کردیئے تھے، ان کا پہلا مجموعہ ’’ہریالی‘‘ 1942 میں شائع ہوا۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انہوں نے مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی اور سیاسی شعور بھی موجود ہے اور انہیں ایک صف اول کے ترقی پسند شعراء میں اہم مقام حاصل ہیں۔ ادبی شاعری کے حوالے سے قتیل کا شمار ترقی پسند شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا ایک شعر ’’دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا‘‘ کہیں ضرب المثل کے طور پر استعمال ہوا تو کہیں نعرہ بنا۔ انہوں نے بہترین ادبی شاعری کے ساتھ ساتھ نغمہ نگاری کو بھی ایک نئی جہت دی۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انہوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ اگرچہ فلموں کے لیے گیت نگاری قتیل شفائی کی نمایاں وجہِ شہرت بنی لیکن خود انہیں ہمیشہ اس بات پر اصرار رہا کہ شعر و ادب ہی اُن کا خاص میدان ہیں اور فلمی گیت نگاری محض ایک ذریعہ روزگار ہے، زیادہ سے زیادہ یہ کہ وہ فلموں میں معیاری شاعری متعارف کروانے کا چیلنج لے کر اس میدان میں آئے۔ ان کا کلام پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔ پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے، انہیں نیشنل فلم ایوارڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایوارڈ بھی دیئے گئے۔ انہیں 94ء میں تمغہ حسن کارکردگی دیا گیا اس کے علاوہ آدم جی ایوارڈ، امیر خسرو ایوارڈ، نقوش ایوارڈ نیز انڈیا کی مگھید یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاولپور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لئے ان پر مقالہ تحریر کیا۔ شہنشاہ غزل مہدی حسن اور بھارت کے غزل گائیک جگجیت سنگھ نے جن شعراء کا کلام زیادہ گایا ان میں قتیل شفائی بھی شامل ہیں۔ ان کے مشہور نغمات اور غزلوں میں ’’زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں، اے دل کسی کی یاد میں، یہ وادیاں یہ پربتوں کی شاہزادیاں، یہ محفل جو آج سجی ہے، کیوں ہم سے خفا ہوگئے اے جان تمنا، صدا ہوں اپنے پیار کی‘‘ جیسے لازوال نغمات شامل ہیں۔

قتیل شفائی نے گیت نگاری کا آغاز پاکستانی فلموں سے کیا تاہم عمر کے آخری برسوں میں کئی بھارتی فلموں کے لیے بھی گیت لکھے، جو بہت مقبول ہوئے، جیسے ’تیرے در پر صنم چلے آئے‘ یا پھر ’سنبھالا ہے مَیں نے بہت اپنے دل کو‘ اور ’وہ تیرا نام تھا۔

تصانیف : ہریالی، آموختہ، گجر، ابابیل، جلترنگ، برگد، روزن، گھنگرو، جھومر، سمندر میں سیڑھی، مطربہ، پھوار، چھتنار، صنم، گفتگو، پرچم، پیراہن، انتخاب (منتخب مجموعہ)، کلیات ’’رنگ خوشبو روشنی‘‘ (تین جلدیں)

ان کا انتقال 11 جولائی 2001ء کو 82 برس کی عمر میں ہوا تھا۔


Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter